رسائی کے لنکس

logo-print

دانش کنیریا نے چھ سال بعد میچ فکسنگ کا اعتراف کرلیا


دانش کنیریا (فائل فوٹو)

اپنے اعترافِ جرم کے ساتھ ہی کنیریا نے اپنے پاکستانی پرستاروں اور کاؤنٹی کے ساتھیوں سے معافی بھی مانگی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ اسپنر دانش کنیریا نے چھ سال بعد کرپشن میں ملوث ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں اور اپنے کیے پر سخت شرمندہ ہوں۔ ایک غلطی کی وجہ سے عزت، مقام اور دوست، سب کچھ کھو دیا۔"

چھ سال قبل انگلش کرکٹ بورڈ نے لندن کی کاؤنٹی ’ایسکیس‘ کے لیےکھیلنے والے دانش کنیریا اور ان کے ساتھی کھلاڑی مارون ویسٹ فیلڈ پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی لگادی تھی۔

ان پر یہ الزام بھی تھا کہ انہوں نے 'آئی سی سی' اور بورڈ حکام کو اس معاملے سے آگاہ نہیں کیا تھا۔

بعد ازاں پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی کنیریا پر ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کرکٹ کے کسی بھی شعبے میں کسی بھی طرح حصہ نہیں لے سکتے۔

دانش کنیریا نے کبھی اس الزام کا اعتراف نہیں کیا تھا اور وہ اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے رہے تھے۔

لیکن اب چھ سال بعد انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ندامت کا اظہار کیا ہے۔

بدھ کو عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کنیریا نے کہا کہ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہیں۔

اپنے اعترافِ جرم کے ساتھ ہی کنیریا نے اپنے پاکستانی پرستاروں اور کاؤنٹی کے ساتھیوں سے معافی بھی مانگی ہے۔

دانش کنیریا نے سن 2012ء میں میرون ویسٹ فیلڈ کی ایک مشکوک شخص انو بھٹ سے ملاقات کرائی تھی۔

دانش کنیریا نے انٹرویو میں بتایا کہ "ویسٹ فیلڈ امیر بننا چاہتا تھا، میں نے اس کی بات مان کر مشکوک شخص سے ملاقات کرائی حالانکہ میرا فرض تھا کہ اسے خبردار کرتا۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ آج میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں۔"

کنیریا نے اپنے جرم کی وجہ اپنے والد کی بیماری کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چھ سال تک غلطی کے اعتراف کا حوصلہ نہیں کرسکے مگر اب جھوٹ کے ساتھ مزید زندگی نہیں گزار سکتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG