رسائی کے لنکس

logo-print

شادی آن لائن


مزمیچ برطانیہ میں مقیم نوجوان مسلمانوں میں مقبول ہے

انتیس سالہ سنبل خالد جو کہ ایک ڈاکٹر ہیں کہتی ہیں کہ "ارینج میرج میں کسی کو شادی سے پہلے جاننے کی اتنی اجازت نہیں ہوتی اس لیے میں نے ایک ڈیٹنگ ایپ کو اپنایا۔

جیسے جیسے نت نئی ٹیکنالوجی لوگوں تک پہنچ رہی ہے ویسے ویسے اس کا استعمال بھی بڑ ھتاجا رہاہے۔ جہاں انٹرنیٹ اور سمارٹ فون ایپس کا استعمال کا استعمال شاپنگ کے لیے ہو رہا ہے وہیں، پاکستانی لڑکے لڑکیاں شادی کے لیے بھی طرح ڈیٹنگ ایپس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اور مزمیچ اور ٹنڈر جیسی ایپس پر خود ہی اپنا ساتھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ مزمیچ ایپ ایک برطانوی شہزاد یونس نے مسلمان لڑکے لڑکیوں کے لیے بنائی جو کہ ارینج شادی کے حق میں نہیں اور اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایپ برطانیہ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی مقبول ہے اور اس کے ذریعے بہت سے نوجوان پاکستانی رشتہ ازدواج میں منسلک بھی ہوئے ہیں۔

شہزاد یونس مزمیچ کے بانی ہیں
شہزاد یونس مزمیچ کے بانی ہیں

پاکستان چونکہ ایک قدامت پسند ملک ہے اسی لیے یہاں پر اولاد کھل کر والدین سے بات نہیں کر پاتی۔ لاہور کی مائذہ حمید نے بتایا کہ "میری اور میرے خاوند کی ملاقات بھی ایک ایپ پر ہوئی مگر ہم کسی کو بتاتے نہیں۔ ہم یہی کہتے ہیں کہ ایک قریبی دوست کی وجہ سے ملے۔ چونکہ والدین ابھی ان چیزوں سے ناصرف ناواقف ہیں بلکہ ان کو پسند بھی نہیں کرتے۔"

انتیس سالہ سنبل خالد جو کہ ایک ڈاکٹر ہیں کہتی ہیں کہ "ارینج میرج میں کسی کو شادی سے پہلے جاننے کی اتنی اجازت نہیں ہوتی اس لیے میں نے ایک ڈیٹنگ ایپ کو اپنایا تاکہ میں لڑکے کو اچھی طرح جان سکوں اور اپنی مرضی سے شادی کر سکوں"۔

پونڈی ایپ کی ٹیم
پونڈی ایپ کی ٹیم

اس بدلتے رویے کے پیشِ نظر چند پاکستانی نوجوانوں نے "پونڈی ایپ" کے نام سے ایک ایپ بنائی ہے۔ اس کے بانی اشر جمیل کہتے ہیں کہ "اس ایپ کا مقصد نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ملنے کے مواقع فراہم کرنا ہے جہاں وہ ایک دوسرے کو جان سکیں۔پاکستان کے قدآمت پسند معاشرے میں پسند کی شادی اور لڑکا لڑکی کے ملنے کو لے کر سوچ کو بدلنا اس ایپ کا مقصد ہے"۔

بعض نوجوان ایسے بھی ہیں جو ابھی عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں وہ رشتہ ازدواج میں نہیں بندھنا چاہتے۔ یا پھر اچھا وقت گزارنے یا محض جنسی تعلقات رکھنے کے لیے ڈیٹنگ ایپس کو استعمال کرتے ہیں۔

ان ملے جلے تجربات کے حوالے سے جب لاہور میں رشتے کرانے والی ایک خاتون سعدیہ شوکت سے بات کی گئی تو انہون نے بتایا کہ" ان ایپس نے ان کا کام کافی خراب بھی کیا ہے۔ پہلے والدین اپنی مرضی سے بچوں کی شادی کراتے تھے مگر اب بچے خود ہی اپنے ہمسفر ڈھونڈ لیتے ہیں ۔ ان کے مطابق ان ایپس کا نقصان یہ ہے کہ خاندان کا پتا نہیں چلتا اور بہت سی لڑکیاں غلط ہاتھوں میں بھی پھنس جاتی ہیں۔ لڑکے شادی کا جھانسا دے کر ان کو پھنسا تو لیتے ہیں لیکن پھر ان کا فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ سعدیہ شوکت کے مطابق لڑکیوں کو چائیے کہ والدین کی مرضی سے شادی کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG