رسائی کے لنکس

logo-print

ممتاز عالمی کاروباری طبقہ غربت مٹانے میں مدد دے: پاپائے روم


اُنھوں نے کہا کہ یہ بات ’ناقابل قبول‘ ہے کہ متعدد معیشتیں اب بھی بھوک و افلاس سے نمٹنے کی جستجو میں الجھی ہوئی ہیں

پوپ فرینسز نے دنیا کے کاروباری اور سیاسی اشرافیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ہنر اور بے تحاثہ وسائل کا استعمال کرتے ہوئے دنیا سے غربت کا خاتمہ کریں۔

پاپائے روم کے جاری کردہ اِس پیغام سے منگل کے روز سوٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں سالانہ ’عالمی اقتصادی فورم‘ کا آغاز ہوا۔

اپنے پیغام میں، پوپ نے اِس بات کو سراہا کہ جدید کاروبار نے صحتِ عامہ کی نگہداشت، تعلیم اور ابلاغ کے فروغ کے میدان میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

لیکن، اُنھوں نے کہا کہ یہ بات ’ناقابل قبول‘ ہے کہ متعدد معیشتیں اب بھی بھوک و افلاس سے نمٹنے کی جستجو میں الجھی ہوئی ہیں۔

اُنھوں نے فورم میں شرکت کرنے والے وفود سے کہا کہ وہ اِس بات کو ’یقینی بنانے کی سعی کریں کہ دولت کے ذریعے انسان ذات کی خدمت بجا لائی جائے، نہ کہ اُن پر حکمرانی کی جائے‘۔

پاپائے روم کا یہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انسانی حقوق سے متعلق گروپ، ’آکسفام‘ نے ایک مطالعاتی رپورٹ جاری کی ہے، جِس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 85 امیر ترین لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے جتنی کہ اس عالم کے تین ارب 50 کروڑ افراد کے پاس ہے، جو عالمی آبادی کا نصف بنتا ہے۔

اِس رپورٹ کے شریک مصنف، نِک گَلاسو نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ امیر ترین اشرافیہ نے اپنے سیاسی اختیارات کے استعمال کے ذریعے اپنے ٹیکس میں کٹوتی حاصل کی، غیر ممالک میں اپنی دولت کو چھپایا، اور اپنے ذاتی مفادات کو سبقت دلائی۔

گَلاسو کے بقول، ’عدم مساوات کی اِس انتہائی سطح نے دراصل جمہوری عمل کو کھوکھلا کیا۔ جِس بات کا ہم نے دنیا بھر میں مشاہدہ کیا ہے اور جو اِس رپورٹ کی دستاویز میں شامل ہے، وہ یہ کہ دولت کا ارتکاز کس طرح سے سیاسی عمل پر اثرانداز ہوتا ہے، جس کے طفیل ایسے قوانین اور ضابطے وضع کیے جاتے ہیں، جِن کے باعث باقی تمام لوگوں کی بنسبت امیروں کو فائدے حاصل ہوں‘۔

’آکسفام‘ نے کہا کہ دیکھا جائے تو ارب پتیوں کی امیری کی سطح کی مثال تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ گذشتہ برس، ’فوربز میگزین‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی طور پر 85 امیر ترین افراد کے پاس تقریباً 1.7 ٹرلین ڈالر کی دولت ہے۔
XS
SM
MD
LG