رسائی کے لنکس

logo-print

باسٹھ امیر ترین افراد دنیا کی نصف دولت پر قابض: اوکسفوم


اوکسفوم کے مطابق، اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حکومتیں کمپنیوں اور امیر افراد سے ٹیکس وصول کریں، اگر عالمی سربراہان 2030ء تک انتہائی غربت کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنے میں واقعی پُر عزم ہیں، جو کہ مقررہ پائیدار ترقیاتی اہداف کا ایک حصہ ہے، جسے ستمبر میں طے کیا گیا تھا

بین الاقوامی عطیات سے وابستہ ادارے، ’اوکسفوم‘ کا کہنا ہے کہ دنیا کے 62 امیر ترین افراد کے پاس اتنی دولت ہے جتنی باقی دنیا کی نصف آباد کے پاس ہے، ایسے میں جب امیرترین لوگ امیر تر، جب کہ غریب، غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔

پانچ برس قبل، دنیا کے 388 افراد کے پاس اتنی دولت تھی جتنی آج دنیا کی نصف آبادی کے پاس۔

اوکسفوم کا کہنا ہے کہ جب کہ دنیا کی غریب ترین آبادی کی دولت، جو سنہ 2010 کے بعد 3.6 ارب ڈالر سے زیادہ تھی، وہ ایک ٹریلین ڈالر کی مالیت تک کم ہوگئی ہے، یا یوں کہیئے کہ 41 فی صد کم ہوگئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ امیر ترین افراد کی دولت تقریباً نصف ٹریلین ڈالر تک بڑھی ہے۔

گروپ نے یہ اعداد و شمار سوٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی صنعتی فورم کے اجلاس کے موقع پر جاری کیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امیر ترین افراد میں سے تقریباً نصف لوگوں کا تعلق امریکہ سے، 17 کا یورپ سے، جب کہ باقی افراد کا تعلق چین، برازیل، میکسیکو، جاپان اور سعودی عرب سے ہے۔

رپورٹ کے ہمراہ، اوکسفوم کی بین الاقوامی منتظمہ، وِنی بیانیما کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔ بیان میں اُنھوں نے بتایا کہ بڑھتے ہوئے عدم مساوات کے بحران پر، عالمی رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، جس پر ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔ اب دنیا مزید غیر مساوات کی شکار ہوگئی ہے اور یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ڈیوس میں کی جانے والی گفتگو میں عدم مساوات پر بات ہوا کرتی ہے، اوکسفوم نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ صرف زبانی کلامی طور پر ماننے کے علاوہ اس معاملے پر دھیان دیا جائے، اگر وہ واقعی غربت میں کمی لانے کے اہداف کے حصول میں پُرعزم ہیں۔

بیانیما کے بقول، ’ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم کروڑوں لوگوں کو بھوکا رہنے دیں، جب کہ وہ وسائل جو اُن کے بھلے کے لیے کام میں لائے جاسکتے ہیں، اُنھیں امیر ترین طبقہ اپنے جانب کھینچتا رہے۔ دیانیما نے گذشتہ سال ڈیوس کے اجلاس کی نائب صدارت کے فرائض انجام دیے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ محصول اکٹھا کرنے کا معاملہ نظام کا بیکار جُزو بن چکا ہے، جس میں بڑے کاروباری اداروں اور امیر افراد کو ٹیکس کا اپنا حصہ نہ ادا کرنے کا بہانہ میسر آتا ہے۔

اوکسفوم کے مطابق، اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حکومتیں کمپنیوں اور امیر افراد سے ٹیکس وصول کریں، اگر عالمی سربراہان 2030ء تک انتہائی غربت کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنے میں واقعی پُر عزم ہیں، جو کہ مقررہ پائیدار ترقیاتی اہداف کا ایک حصہ ہے، جسے ستمبر میں طے کیا گیا تھا۔
اوکسفوم کے خیال میں امیر ترین لوگوں کی 7.6 ٹریلین کے قریب دولت بیرونِ ملک جمع ہے، جو مجموعی عدد کا 12 فی صد ہے، اور یہ کہ اگر اور نہیں تو اِسی دولت پر ٹیکس ادا کی جائے تو غربت کے انسداد کی کوششوں کے لیے تقریباً 190 ارب ڈالر کی رقم میسر آئے گی۔

XS
SM
MD
LG