رسائی کے لنکس

'بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا'


احمد ندیم قاسمی (فائل فوٹو)

کسی بھی شعبے میں ایسے لوگ بہت ہی کم ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے ہم عصروں کے دل میں اپنی عزت پیدا کرنا جانتے ہیں بلکہ نو واردگان کی حوصلہ افزائی کر کے اس شعبے کی آبیاری کا کام بھی کرتے ہیں۔

ادب کے شعبے کی ایک ایسی ہی تاریخ ساز شخصیت احمد ندیم قاسمی تھے جن کے افسانے، کہانیاں، شاعری اور کالم آج بھی تشنگانِ ادب کی تشفی کا سامان بہم پہنچاتے ہیں۔

پنجاب کے علاقے خوشاب کے گاؤں انگا میں 1916ء میں پیدا ہونے والے احمد شاہ اعوان نے ندیم کو بطور تخلص اختیار کیا اور اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز 1930ء کی دہائی میں کیا۔

شاعری اور افسانہ نگاری میں طبع آزمائی کرنے والے احمد ندیم قاسمی اردو ادب کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے اور اس سفر میں اس دور کے کئی بڑے ادبا سے شناسائی نے ان کے ذوق کو اور مہمیز کیا۔

ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ 'چوپال' کے عنوان سے 1939ء میں منظر عام پر آیا اور ادب کی درک رکھنے والوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔

بعد ازاں وہ مختلف رسالوں اور مجلوں کی ادارت کے فرائض بھی انجام دینے لگے جن میں سب بے اہم ادب لطیف، نقوش اور فنون شامل ہیں۔

انھوں نے کئی نوجوان لکھنے والوں کی نہ صرف راہنمائی کی بلکہ انھیں ادبی دنیا میں متعارف کروانے اور اس سفر میں ان کی حوصلہ افزائی کر کے ادب کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا۔

معروف ناول نگار بشریٰ رحمان وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتی ہیں کہ احمد ندیم قاسمی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کا کام بیسویں صدی کے ادب پر حاوی دکھائی دیتا ہے۔

ان کے نزدیک احمد ندیم قاسمی کی کہانیاں اور افسانے زمین سے جڑے کرداروں کے گرد گھومتی ہیں اور اسی بنا پر وہ پڑھنے والے کے ذہن پر اپنا ایک خاص نقش چھوڑ جاتی ہیں۔

"سب سے بڑی بات یہ کہ ان کی شخصیت میں انکساری اور ملاحت تھی، چھوٹوں سے بہت پیار اور شفقت سے ملتے تھے اور اپنے ہم عصر لوگوں کا ادب کرتے تھے۔ مجھے جب بھی ان سے ملنے کا اتفاق ہوا تو میں نے کبھی ان کے منہ سے کسی کے لیے کوئی کم تر لفظ نہیں سنا۔۔۔وہ باتیں کم کرتے تھے اور سنتے زیادہ تھے۔۔۔ادب میں وہ ایسا راستہ بنا گئے ہیں کہ جس پر آنے والی نئی نسلیں چلیں گی اور اپنے راستے تلاش کریں گی۔"

معروف شاعر اور مصنف امجد اسلام امجد نے احمد ندیم قاسمی کی شخصیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جیسے کرکٹ میں کوئی اچھا بلے باز ہوتا ہے تو کوئی باؤلر لیکن کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں آل راؤنڈر کہا جاتا ہے تو فن تخلیق میں بھی ایسے کچھ لوگ ہوتے ہیں جو آل راؤنڈر ہوتے ہیں۔

"ایک ہی وقت میں وہ نثر میں نظم میں اعلیٰ کام کرتے ہیں ان میں احمد ندیم قاسمی بھی ہیں جنہوں نے افسانہ لکھا تو اپنے دور کے بڑے افسانہ نگاروں میں شامل ہوئے شاعری کی تو بڑے شاعروں میں شمار ہوئے اسی طرح بطور کالم نگار اور اسی طرح بطور مدیر جو چالیس برس تک انھوں نے نئی نسل کی جو حوصلہ افزائی کی یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ میرے خیال میں 1970ء کے بعد ادبی دنیا میں اتنی جامع شخصیت شاید ہی آپ کو نظر آئے۔"

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے احمد ندیم قاسمی سے یہی سیکھا کہ آپ ایک سے زیادہ شعبوں میں اچھا و معیاری کام کر سکتے ہیں۔

1930ء کی دہائی میں ترقی پسند تحریک شروع ہونے کے بعد جب روسی، لاطینی امریکی اور دیگر خطوں کا ادب قاری کو پڑھنے اور اسے زیر بحث لانے کا موقع ملا تو راہراوان ادب کے ذہنی افق کو ایک اور ہی وسعت ملی جسے راہنمائی اور سمت درکار تھی۔

امجد کہتے ہیں کہ "بہت کم لوگ ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے بعد میں آنے والوں کو ایک طرح سے راستے پر ڈالا ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ قاسمی صاحب اس میں ایک اہم نام ہے جنہوں نے خود بھی سیکھا زندگی سے اور بعد میں جتنے لوگ ان کے دائرے میں آئے ان لوگوں کو بھی ان کی صلاحیت کے مطابق رستہ دکھایا، راہنمائی اور حوصلہ افزائی بھی کی، یہ تربیت کا نیا طریقہ بھی ان ہی کا خاصا تھا۔"

احمد ندیم قاسمی دس جولائی 2006ء کو تقریباً نوے برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے لیکن ان کا کیا ہوا کام اب بھی ادب کے لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ انھوں نے افسانوں، کہانیوں اور شاعری کی درجنوں کتابوں کے علاوہ بے شمار تنقیدی اور تحقیقی تصانیف کا ایک ادبی خزانہ چھوڑا ہے۔

ان کے کئی اشعار زبان زدعام ہونے کے ساتھ ساتھ ضرب مثل کا درجہ بھی اختیار کر چکے ہیں لیکن، یہ جس طرح انھوں نے ادبی دنیا میں اوروں کی راہنمائی اور سرپرستی کی اس پر یہ شعر بے اختیار ذہن میں آتا ہے۔

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG