رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا: سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد 832 سے تجاوز کر گئی


پالو شہر کا فضائی منظر جس میں زلزلے سے ہونے والی تباہی دیکھی جاسکتی ہے۔

دو روز گزر جانے کے باوجود امدادی اہلکار اب تک ڈونگالا نامی قصبے تک نہیں پہنچ سکے جو زلزلے کے مرکز سے صرف 27 کلومیٹر دور واقع ہے۔

انڈونیشیا میں جمعے کو آنے والے زلزلے اور سونامی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 832 سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ متاثرہ علاقوں میں تاحال سیکڑوں افراد لاپتا ہیں۔

ملک کے نائب صدر یوسف کلا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔

امریکی حکومت نے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈونیشیا میں امریکی سفارتخانہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ تاہم اب تک اس زلزلے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی سونامی میں کسی امریکی شہری کے متاثر ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ انڈونشیا کا ایک سٹریٹجک پارٹنر ہے اور وہ اس آفت سے نمٹنے میں مدد دینے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔

جمعے کی دوپہر آنے والے طاقت ور زلزلے نے جزیرہ سولاویسی کو نشانہ بنایا تھا جس کے کچھ دیر بعد سونامی کی چھ میٹر تک بلند لہریں جزیرے کے ساحلی شہر پالو سے ٹکرائی تھیں۔

زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5ء7 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس سے پالو میں ہزاروں گھر، اسپتال، شاپنگ مالز، ہوٹل اور سرکاری عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔

انڈونیشیا میں قدرتی آفات سے نبٹنے کے ادارے نے بتایا ہے کہ اب تک پالو اور دیگر نواحی علاقوں میں 832 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ اب بھی خدشہ ہے کہ سیکڑوں افراد منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوسکتے ہیں۔

زلزلے سے تباہ ہونے والا ایک پل
زلزلے سے تباہ ہونے والا ایک پل

متاثرہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل کا نظام اور مواصلاتی رابطے تاحال منقطع ہیں جس کے باعث امدادی اہلکاروں کو سخت مشکلات پیش آرہی ہیں۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سڑکیں بند ہونے کے باعث امدادی کارکن اب تک بہت سے شدید متاثرہ علاقوں تک پہنچ ہی نہیں سکے ہیں۔

بین الاقوامی امدادی ادارے 'آکسفام' کے ایک مقامی ذمہ دار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دو روز گزر جانے کے باوجود امدادی اہلکار اب تک ڈونگالا نامی قصبے تک نہیں پہنچ سکے جو زلزلے کے مرکز سے صرف 27 کلومیٹر دور واقع ہے۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تین لاکھ کی آبادی والے ڈونگالا میں شدید تباہی ہوئی ہے۔

تاہم ساحلی اور سیاحتی شہر پالو میں امدادی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں اور امدادی کارکن فوجی دستوں کی مدد سے ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ صرف ایک ہوٹل کےملبے تلے 150 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ودود بھی زلزلے اور سونامی سے ہونے والے نقصان اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے اتوار کو علاقے کا دورہ کر رہے ہیں۔

حکام نے زلزلے سے متاثر ہونے والے پالو کے ہوائی اڈے کو پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے جس کے بعد فوجی سی-130 طیارے امدادی سامان لے کر شہر پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں کے سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہو رہا ہے کہ علاقے میں واقع بندرگاہوں کو بھی سونامی سے شدید نقصان پہنچا ہے اور وہاں جہازوں کے ڈھانچے، کنٹینرز اور دیگر سامان بکھرا پڑا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG