رسائی کے لنکس

logo-print

متحارب تنازعات میں ہلاکتوں کی شرح میں اضافہ: رپورٹ


رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال شام میں 76 ہزار افراد مارے گئے جب کہ 2013ء میں یہ تعداد 73447 تھی۔

ایک مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2013ء کی نسبت زیادہ رہی اور اس میں زیادہ تر حصہ شام میں جاری خون خرابے نے ڈالا۔

"پراجیکٹ فار دی اسٹڈی آف 21 سینچری" نامی تھنک ٹینک کی بدھ کو جاری کی گئی رپورٹ میں امریکی فوج، اقوام متحدہ، سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس اور عراق باڈی کاؤنٹ کے ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کا تجزیہ کیا گیا جس کے مطابق گزشتہ سال شام میں 76 ہزار افراد مارے گئے جب کہ 2013ء میں یہ تعداد 73447 تھی۔

رپورٹ کے مطابق مختلف ہلاکت خیز جنگوں میں اسلامی شدت پسند گروپوں کا ہاتھ ہے۔

رپورٹ مین کہا گیا کہ عراق میں گزشتہ سال 21000 افراد ہلاک ہوئے جہاں سرکاری فورسز شدت پسند گروپ داعش کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔ اس کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں (14638) افغانستان میں اور پھر 11529 نائیجیریا میں ہوئیں۔

گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر ایپس کا کہنا تھا کہ "تنازعات کے علاقے سے ہلاک و زخمی ہونے والوں کی صحیح تعداد حاصل کرنا انتہائی حد تک مشکل ہے اور یہاں بتائے گئے اعداد و شمار غالباً کم بتائے گئے ہیں۔"

ان کے بقول پھر بھی ان اعداد و شمار کا اگر 2013ء سے موازنہ کیا جائے تو یہ بڑے واضح فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔

گزشتہ سال آسٹریلیا اور امریکہ میں قائم انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2007ء کے بعد سے ہر سال دنیا میں پرتشدد تنازعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG