رسائی کے لنکس

کوئٹہ: بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوگئی، تحقیقات جاری


بلوچستان کے دارالحکومت کو ئٹہ میں جمعہ کو ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 14 ہوگئی ہے جبکہ شہر کی فضا بدستور سوگوار ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گزشتہ بم دھماکے کے تین شدید زخمی اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

آئی جی بلوچستان احسن محبوب کے مطابق خودکش دھماکے کی جدید خطوط پر تحقیقات کے لئے بلوچستان پولیس نے پنجاب سے چار رُکنی فرانزک ٹیم بلوا لی ہے جو دھماکے کی جگہ اور اس میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد کا معائنہ کر کے اس بات کا تعین کرے گی کہ دھماکے میں کس طرح کا باردوی مواد استعمال کیا گیا۔

اس دھماکے کی ایف ائی آر علاقے کے ایس ایچ او کی مدعیت میں نا معلوم افراد کے خلاف قتل، اقدام قتل اور دھماکا خیز مواد رکھنے کی دفعات کے تحت در ج کر لی گئی ہے۔

آئی جی بلوچستان کے دفتر کے سامنے جمعہ کی صبح ایک زور دار دھماکا ہواتھا جس میں 8 پولیس اہلکاروں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحر یک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے "جماعت الحرار" کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حساس علاقے میں اس دھماکے کے بعد شہر کے تمام حساس مقامات اور قومی تنصیبات کی سیکورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے اور شہر میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر مشتبہ لوگوں کی جامہ تلاشی بھی لی جارہی ہے۔

دوسری طرف اس دھماکے کے بعد بلوچستان حکومت نے فرنٹیر کور بلوچستان کو مزید تین ماہ کے لئے پولیس کے اختیارات دینے کی منظوری دے دی ہے۔ ایف سی کے اختیارات کی مدت 17 جون کو ختم ہوگئی تھی۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے صوبائی حکومت وفاقی وزارت داخلہ سے فرنٹیر کور بلو چستان کے اہلکاروں کی خدمات مستعار لیتی ہے ان خدمات کی عوض صوبائی حکومت فرنٹیر کور بلوچستان کو باقاعدگی سے اربوں روپے ادا کر تی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG