رسائی کے لنکس

logo-print

اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سے متعلق آگاہ نہیں: وزیردفاع


راحیل شریف (فائل فوٹو)

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق فوجی افسران کو کوئی عہدہ سنبھالنے سے پہلے فوج اور وزارت دفاع سے این او سی (اعتراض نہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ) لینا پڑتا ہے اور راحیل شریف کی طرف سے ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کی طرف سے بین الاقوامی اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالنے سے متعلق خبروں سے بظاہر لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے والے راحیل شریف نے اس فوجی اتحاد کی کمان سنبھال لی ہے۔

جس کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ میں وزیر دفاع نے کہا تھا کہ "یہ فیصلہ موجودہ حکومت کو اعتماد میں لے کر کیا گیا" اور ان کے بقول اس بارے میں وزیراعظم نواز شریف سے بھی مشاورت کی گئی تھی۔

اس فوجی اتحاد میں شیعہ حکومتوں والے مسلم ممالک ایران، عراق اور شام شامل نہیں ہیں اور اسی بنا پر اس اتحاد کی تشکیل پر یہ کہہ کر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ اس میں ایک خاص مسلک والے ممالک کو شامل نہ کرنا مناسب نہیں ہو گا۔

پاکستان کے کٹر سنی ریاست سعودی عرب اور اس کے شیعہ حریف ملک ایران دونوں کے ساتھ ہی قریبی تعلقات ہیں اور پاکستان میں مختلف حلقوں کی طرف سے ملک کے ایک سابق اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار کی طرف سے اس اتحاد کی کمان ممکنہ طور پر سنبھالنے کو غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا جا رہا تھا۔

ایوان بالا "سینیٹ" میں بدھ کو وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے چیئرمین رضا ربانی کے استفسار پر بتایا کہ ایسی خبروں میں فی الحال کوئی بات واضح نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی افسران کو کوئی عہدہ سنبھالنے سے پہلے فوج اور وزارت دفاع سے این او سی (اعتراض نہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ) لینا پڑتا ہے اور راحیل شریف کی طرف سے ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

سینیٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ سابق جنرل راحیل شریف کی طرف سے اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

اس پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایوان کو بتایا کہ اس ضمن میں تاحال سعودی عرب کی طرف سے باقاعدہ طور پر کوئی پیشکش نہیں کی گئی اور نہ ہی این او سی کے لیے کوئی درخواست موصول ہوئی ہے لہذا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثرات سے متعلق وہ کوئی بات نہیں کریں گے۔

ایک سال قبل سعودی عرب نے اسلامی ملکوں کے فوجیوں پر مشتمل ایک مجوزہ اتحاد کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔

جنرل راحیل شریف گزشتہ سال نومبر کے اوخر میں اپنے عہدے کی تین سالہ معیاد مکمل ہونے پر سکبدوش ہو گئے تھے۔ پاکستان کے آرمی چیف کے طور پر انھوں نے نہ صرف شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بھرپور فوجی کارروائی کا آغاز کیا بلکہ ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مہمیز کیا۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فوج کی کامیابیوں میں راحیل شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف پاکستان کے علاوہ بیرون دنیا بھی کرچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG