رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن: یوم دفاع پاکستان پر سفارتخانے میں تقریب


پاکستان کی یوم دفاع کی اس تقریب میں امریکی فوجی وسول حکام کے علاوہ واشنگٹن میں تعینات مختلف ممالک کے فوجی اتاچیوں ، سفارتکاروں ، تاجروں اور اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی

امریکی فوج کے میجر جنرل گیرٹ یی نے دیرینہ پاک امریکہ فوجی تعلقات میں وقت کے ساتھ مزید گہرائی کی توقع کا اظہار کرتے ہوئے، امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی افواج مشترکہ مشقیں کریں گی۔

واشنگٹن کے پاکستانی سفارتخانے میں منعقدہ یوم دفاع پاکستان کی تقریب میں ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے، جنرل گیرٹ یی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دیرینہ فوجی تعلقات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ قومی سطح پر ہم ایک عرصے سے ایک دوسرے سے مانوس ہیں، وقت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کم نہیں ہوگی‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’امریکہ افغانستان میں استحکام کے لئے کام کر رہا ہے، جب کہ پاکستان خطے میں اہم امریکی پارٹنر ہے۔‘

جنرل گیرٹ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے حوالے سے ’ہمارے پاس ایک پروگرام ہے، وقت کے ساتھ اس میں مزید گہرائی آئے گی۔ فوجی مشقیں ہوں گی، مستقبل کے حوالے سے پرامید ہوں۔ ایک فوجی کی حثیت سے ان تعلقات پر شکر گزار ہوں‘۔

انھوں نے یوم دفاع پاکستان پر پاکستانی قوم کو مبارکباد پیش کی۔

اس تقریب کے مہمان خصوصی، امریکی کانگریس کے رکن، جیری کونولی نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس دو طرفہ تعلقات میں مزید گہرائی آنی چاہئے۔

بقول اُن کے، ’ہم پارٹنرشپ چاہتے ہیں۔ یہ دہشت گردی سے مقابلے کے لئے ہو یا تعلیم کے فروغ کے لئے یا پھر عالمی حدت کے مسئلے پر۔۔۔ میں دیکھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے تعلقات کافی حساس نوعیت کے ہیں۔ توقع کرتا ہوں کہ امریکہ برصغیر میں قیام امن میں اپنا کردار بڑھائے گا، تاکہ پاکستان پرامن پڑوسیوں کے درمیان ترقی کی جانب گامزن ہوسکے۔‘

تقریب میں امریکی فوجی و سول حکام کے علاوہ، واشنگٹن میں تعینات مختلف ممالک کے فوجی اطاشیوں، سفارتکاروں، تاجروں اور اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر 1965ء کی جنگ کے پس منظر میں ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے اس موقع پر حاضرین کو بتایا کہ وہ ’65 کی جنگ میں پاکستانی فوج کی بہادری کے عینی شاہد ہیں‘۔

تقریب سے خطاب میں، پاکستانی دفاعی اطاشی، برگیڈئر سرفراز احمد نے کہا کہ پاکستانی فوج ان دنوں دہشت گردی کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی جنگ میں شریک ہے اور اس کے 2 لاکھ 85 ہزار فوجی قبائلی علاقے میں دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یکسو ہے۔

انھوں نے یاد دلایا کہ مسئلہ کشمیر خطے کا ایک حساس مسئلہ ہے، اُسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے، خطے میں انتہا پسندی کو فروغ ملا ہے۔

دفاعی اہل کار نے کہا کہ ’پاکستان اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے پر یقین رکھتا ہے‘۔

XS
SM
MD
LG