رسائی کے لنکس

'نیٹو' کا ہیڈ کواٹر جمعرات کو ایک نئی عمارت میں منتقل ہو گیا ہے اور اس نئی شاندار عمارت کو بعض راہنماؤں نے اس اتحاد کے مستقبل کے لیے ایک اچھا پیش خیمہ قرار دیا۔

یورپی ملکوں کے بعض راہنماؤں کو جہاں نیٹو کے مسقتل سے متعلق خدشات ہیں وہیں دیگر راہنماؤں نے جمعرات کو ہونے والے اجلاس کو اتحاد کو ایک نئی سمت کی طرف گامزن کرنے موقع قرار دیا ہے۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے ہلکے پھلے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ"میں یہ کبھی بھی نہیں پوچھوں گا کہ نیٹو کے نئے ہیڈکواٹر کی (تعمیر پر) کتنی لاگت آئی ہے۔ میں ایسا نہیں کروں گا تاہم یہ بہت خوبصورت ہے۔"

اس کمپلیکس کی تعمیر پر ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی رقم خرچ ہوئی ہے۔

اس عمارت میں نیویارک میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملے کی وجہ سے تباہ ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دو مڑے ہوئے اسٹیل کے ٹکڑے اکیسویں صدی میں نیٹو کے دہشت گردی سے نمٹنے کے اہم مقاصد کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ نیٹو اتحادیوں کے اس عزم کی بھی عکاسی ہے کہ اگر کسی بھی رکن ملک پر حملہ ہو گا تو دوسرے اس کی مدد کریں گے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "صدر ٹرمپ نے 9/11 اور آرٹیکل 5 کی یادگار پیش کی جو نیٹو کی یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف ہماری مشترکہ لڑائی کی اہمیت کی ایک مضبوط علامت ہے۔"

اسٹولٹنبرگ نے ٹرمپ کی طرف سے امریکی بجٹ میں فوجی اخراجات میں اضافے کی تجویز پر کہا کہ یہ "ہمارے اتحاد کے ساتھ وابستگی کے عزم کی ممکنہ طور پر سب سے مضبوط علامت" ہے۔

نیٹو ممالک کے راہنماؤں نے انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس کی معلومات کے تبادلے کے مرکز کو قائم کرنے کے منصوبے پر پیش رفت پر بھی اتفاق کیا۔

اس کانفرنس کا ماحول توقع سے بہتر تھا اور تجزیہ کاروں نے اسے جمعرات کی کانفرنس کی سب سے بڑی کامیابی قراردیا۔

کارنیگی یورپ ریسرچ آرگنائزیشن سے وابستہ سکیورٹی کی تجزیہ کار جوڈی ڈیمپسی نے وی او اے کو بتایا کہ "میرے خیال میں اس اجلاس میں فضا بہت بہتر ہو گئی۔۔۔یورپین (راہنما ٹرمپ) کے یہاں آنے پر بہت مظطرب تھے ۔ وہ یہاں ہیں اور سورج چمک رہا ہے۔"

نیٹو ہیڈکواٹر کی نئی عمارت اس بات کی مظہر ہے کہ یہ اتحاد قائم رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG