رسائی کے لنکس

logo-print

کانگریس رہنما کو سکھ مخالف فسادات کے مقدمے میں عمر قید


سجن کمار، فائل فوٹو

دہلی ہائی کورٹ نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے ایک مقدمے میں سینئر کانگریس رہنما سجن کمار کو قصوروار قرار دیتے ہوئے انھیں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ان پر سکھوں کے خلاف فساد برپا کرنے کے لیے بلوائیوں کو اکسانے کا الزام تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا جس میں سجن کمار کو بری کیا گیا تھا۔ عدالت نے ان سے کہا ہے کہ وہ 31 دسمبر تک خود کو قانون کے حوالے کر دیں۔ انھیں پوری زندگی جیل میں رہنا ہوگا۔

انھیں ایک عینی شاہد کے بیان پر سزا سنائی گئی ہے۔ جس وقت فساد ات بھڑکے تھے، وہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ تھے۔

31 اکتوبر کو جب اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا تو اس کے اگلے روز دہلی سمیت پورے ملک میں سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے جو تین روز تک جاری رہے۔

ان فسادات میں صرف دہلی میں تین ہزار سے زائد سکھ ہلاک کردیئے گئے تھے۔

اس فیصلے کے بعد بی جے پی اور اکالی دل نے کانگریس پر جارحانہ حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب کانگریس کے دوسرے رہنماؤں جگدیش ٹائٹلر اور کمل ناتھ کا بھی نمبر آئے گا۔ کمل ناتھ پر بھی بلوائیوں کو مشتعل کرنے کا الزام ہے۔

بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے راہول گاندھی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارٹی صدارت سے مستعفی ہو جائیں۔ مرکزی وزیر اور اکالی دل رہنما ہرسمرت کور نے کہا کہ وہ ایک سیاہ دن تھا۔ اس دن ہم جیسے لوگوں کو اپنی جان بچانی مشکل تھی۔

کانگریس نے بی جے پی سے کہا کہ وہ اس معاملے پر سیاست نہ کرے۔ اس نے 2002 کے گجرات فسادات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان میں بہت سے بی جے پی رہنماؤں کے نام آئے ہیں اور انھیں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG