رسائی کے لنکس

logo-print

مشتبہ شخص کی ذاتی آزادی میں مداخلت غیر قانونی ہے


ملزم کی رضامندی کے بغیر نارکو انالیسز، پولی گرافی اور برین میپنگ ٹیسٹ نہیں کیے جا سکتے: بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک غیرمعمولی فیصلے میں کسی ملزم یا مشتبہ شخص کی مرضی کے بغیر اُس کے نارکو انالیسز، برین میپنگ اور پولی گرافک ٹیسٹ کرانا غیر قانونی ہے اور اسے ذاتی آزادی میں مداخلت قرار دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے، کیونکہ وہ اِن تکنیکوں کا سہارا لے کر ملزموں سے اپنے مطلب کے بیانات دلواتی ہیں اور اُنھیں عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے نامہ نگاروں کو اِس کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ آرٹیکل 20کلاز 3گارنٹی دیتا ہے کہ ہر ایک آدمی کا اپنا طریقہ ہے کہ وہ بولنا چاہتا ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس کے جی بالا کرشن کی سربراہی والے بنچ نے کہا ہے کہ ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کسی بھی شخص کو اُس کی مرضی کے خلاف بات کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ اُس پر اِن تکنیکوں کا استعمال کیا جائے۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ دستور کی دفعہ 20کے کلاز 3اور 21کی خلاف ورزی ہوگی۔


عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی شخص کی رضامندی سے بھی ایسے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تو جانچ کے نتائج عدالت میں ثبوت کے طور پر نہیں مانے جائیں گے۔

خیال رہے کہ اِن تجربات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اُنھیں عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں کئی بڑے معاملات میں ملزموں کو سزا دلانے کے لیے اِن تکنیکوں کا استعمال کر چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG