رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کو کیسے شکست دیں گے؟ ڈیموکرٹک امیدواروں کا مباحثہ


Election 2020 Debate

آئندہ سال امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدواروں کے درمیان مباحثوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ نامزدگی کی دوڑ میں 25 ڈیمو کریٹس امیدوار میدان میں ہیں۔

بدھ کو دس ڈیموکریٹس امیدواروں نے صدارتی نامزدگی کے مباحثے میں حصہ لیا اور صدر ٹرمپ کو شکست دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

ابتدائی مباحثے میں شمال مشرقی ریاست 'میساچیوسٹس' سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ایلزبتھ وارن توجہ کا مرکز بنیں رہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ 3 نومبر 2020ء کو منعقد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے مقابلے کے لیے ڈیموکریٹس کی جانب سے امیدوار ہو سکتی ہیں۔

'اقتدار عوام کو منتقل کروں گی'

ایلزبتھ وارن نے میامی اور فلوریڈا میں براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقتدار واپس عوام کو منتقل کریں گے۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 'اگر موقع ملا تو امریکی مفادات کے خلاف کام کرنے والی بڑی کمپنیوں پر ہاتھ ڈالوں گی۔ مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں ایسا کر سکوں۔'

ایلزبتھ وارن نے ہیلتھ کیئر کے شعبے میں بھی تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ نجی انشورنس اداروں کا عمل دخل ختم کر کے اسے حکومت کے زیر اثر لائیں گی۔ خیال رہے کہ بعض ڈیمو کریٹک اور ریپبلکن امیدوار شعبہ صحت میں ان تبدیلیوں کو ملک کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

ایلزبتھ وارن کے مطابق صحت کا شعبہ براہ راست انسانی حقوق سے منسلک ہے اور وہ اس ضمن میں ہر مشکل کا مقابلہ کریں گی۔

صدارتی انتخابات کے لیے نامزدگی کے لیے 20 ڈیمو کریٹس امیدوار میدان میں ہیں۔
صدارتی انتخابات کے لیے نامزدگی کے لیے 20 ڈیمو کریٹس امیدوار میدان میں ہیں۔

امیگریشن پالیسیوں میں تبدیلیاں ناگزیز ہیں

مباحثے کے دوران جولین کاسترو، سینیٹر کوری بوکر سمیت دیگر نے امریکہ کی امیگریشن پالیسی میں تبدیلیوں کا اشارہ بھی دیا۔ ان امیدواروں نے پناہ کے لیے امریکہ آنے والوں کا راستہ روکنے سے متعلق صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

جولین کاسترو نے کہا کہ ہمیں ایسی پالیسیوں سے گریز کرنا چاہیے جس سے امریکہ میں داخلے کے خواہش مند مایوس ہو کر غلط قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں۔ انھوں نے میکسیکو سے منسلک جنوبی سرحد پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش میں ایک شخص اور اس کی 23 ماہ کی بیٹی کے دریا میں ڈوبنے کے واقعے کو دل دہلا دینا والا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کے لیے شرم کا مقام ہے۔

مباحثے کے دوران منی سوٹا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹس صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شامل امی کلوبوچار نے کہا کہ 'پناہ گزینوں کی آمد سے امریکہ میں جگہ کم نہیں پڑ جائے گی، تاہم انسانی اسمگلروں کا راستہ روکنے کے لیے سرحد پر سختی ناگزیر ہے۔'

بعض ماہرین کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں کے مباحثے کو امریکی عوام کے لیے ایک موقع قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ 2016ء میں ٹرمپ کی حیران کن کامیابی کے بعد متبادل آپشنز پر غور کر سکیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے دس امیدوار جمعرات کی شام کو مباحثے میں حصہ لیں گے جن میں سابق صدر جو بائیڈن بھی شامل ہوں گے۔ دیگر شرکا میں سینیٹر برنی سینڈرز، کملا ہیرس، میئر بٹییگگ شامل ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ایسے 12 مباحثوں کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں صدارتی انتخاب لڑنے کے خواہش مند امیدوار، خارجہ پالیسی، داخلی معاملات، اسقاط حمل قوانین اور امیگریشن سے متعلق اپنا ایجنڈا عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

ان مباحثوں کے بعد فروری 2020ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمریز اور 'کاکس' ووٹنگ کے ذریعے حتمی امیدوار کا اعلان کیا جائے گا۔

سیاسی ماہرین کے مطابق ڈیمو کریٹس ووٹرز ایسے امیدوار کے حق میں اپنا ووٹ دیں گے جو خارجہ پالیسی، صحت، امیگریشن اور ٹیکس اصلاحات کے معاملے پر ان کے جذبات کی ترجمانی کے علاوہ صدر ٹرمپ کو شکست دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔

صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں سابق صدر جو بائیڈن بھی شامل ہیں۔
صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں سابق صدر جو بائیڈن بھی شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ کا ردعمل

صدر ٹرمپ نے ڈیمو کریٹس امیدواروں کے مباحثے پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ جی 20 اجلاس کے لیے جاپان روانہ ہو رہے ہیں اور وہ ائیرفورس ون میں بدھ کا مباحثہ دیکھیں گے۔

مباحثے سے متعلق وائس آف امریکہ کے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'میرا خیال ہے کہ یہ سب(ڈیمو کریٹک امیدوار) بہت بری بحث کریں گے۔'

صدر نے سابق صدر جو بائیڈن پر بھی طنز کیا کہ انھیں مباحثے میں حصہ لینے کے لیے جمعرات تک انتظار کرنا پڑے گا۔

تازہ سروے کے مطابق بیشتر ڈیمو کریٹک امیدواروں کو صدر ٹرمپ پر برتری حاصل ہے، خاص طور پر سابق نائب صدر جو بائیڈن کو، جو آٹھ سال تک اوباما کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ انھیں 73 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ پر 10 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

بعض ماہرین کے بقول انتخابات سے 16 ماہ قبل کیے گئے اس سروے کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بدھ کے مباحثے میں واشنگٹن کے گورنر جے انسلے، سابق سیکرٹری ہاؤسنگ جولین کاسترو، تلسی گیبرڈ، نیویارک سٹی میئر ڈی بلاسیو، ٹم ریان اور میری لینڈ سے جان ڈیلانی نے بھی شرکت کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG