رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: ڈیموکریٹک صدارتی نامزدگی جیتنے کی دوڑ، نئی حکمتِ عملی کیا ہوگی؟


بٹیجج، سینڈرز، جو بائیڈن، الزبیتھ وارن اور ایمی کلوبچر۔

امریکہ کے اگلے صدارتی انتخاب کے لئے ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدواروں کی جانب سے صدارتی نامزدگی جیتنے کی دوڑ کے لئے سرگرمیوں میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدواروں نے انتخابی مہم کو وسیع کرنے سے متعلق حکمت عملی تیار کی ہے۔ افریقی امریکی، ہسپانوی اور ایشیائی ووٹروں پر خصوصی دھیان دیا جا رہا ہے۔ نامزدگی کے مرحلے سے قبل، پارٹی کے کرتا دھرتا طویل دوڑ اور غیر یقینی صورت حال پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔

نیو ہیمپشائر پرائمری میں سینیٹر برنی سینڈرز کی جیت کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے معتدل خیالات کے مالک سینئر ارکان نئی حکمت عملی وضع کر رہے ہیں

سابق نائب صدر جو بائیڈن نے ان عطیہ دہندگان سے ذاتی اپیل کی ہے، جو نامزدگی کے ابتدائی دو مرحلوں میں ان کی کارکردگی سے مایوس نظر آتے ہیں۔ سینیٹر ایمی کلوبچر نے انتخابی مہم میں حمایت اور پیسوں سے متعلق سوچ پر اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔

پیٹ بٹیجج نیو ہیمپشائر پرائمری میں دوسرے نمبر پر آئے ہیں، جب کہ یہاں برنی سینڈرز نے کامیابی ھاصل کی ہے۔ ڈیلیگیٹس کے لحاظ سے بٹیجج کو معمولی برتری حاصل ہے، جنھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کلیدی اہمیت کے حامل یونین کے ارکان ترقی پسند سینیٹر کی حمایت نہ کریں۔

جِم مارگولس کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی سینیٹر، کملہ ہیرس کے مشیر ہیں۔ کملہ ہیرس صدارتی نامزدگی کی دوڑ سے دستبردار ہو چکی ہیں۔ مارگولس نے کہا ہے کہ ’’ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ یہ مرحلہ خاصا طویل ہو گا‘‘۔

اب یہ دوڑ نیواڈا کی جانب رواں ہے، جہاں 22 فروری کو کاکسز کا انعقاد ہو گا، جس کے ایک ہفتے بعد ساؤتھ کیرولائنا میں امیدواروں کے درمیان پرائمری مقابلہ ہو گا۔ زور اس بات پر ہو گا کہ آئیووا اور نیو ہیمپشائر میں لاطینی، سیاہ فام اور یونین ووٹروں پر مزید کام کیا جائے، تاکہ وہ نامزدگی کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

اب تک کے نامزدگی کے عمل میں سفید فام آگے دکھائی دیتے ہیں اور سرکردہ امیدواروں کے حامی دوسرے گروہوں پر کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔

انڈیانا کے شہر ساؤتھ بینڈ کے سابق میئر، بٹیجج نے دلیل دی ہے کہ سینڈرز کے ’میڈیکیئر فور آل‘ کے منصوبے کے نتیجے میں کچھ یونین ارکان ’گولڈ اسٹینڈرڈ کیئر پلان‘ متعارف کرائیں گے۔ ان کا اشارہ طاقت کے حامل ’کلینری یونین‘ کی جانب تھا جو لاس ویگاس کی پٹی کے کارکنان کی نمائندگی کرتے ہیں۔

این بی سی کے پروگرام ’مارننگ جو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے، بٹیجج نے کہا کہ ’’اگر سینیٹر سینڈرز ان سے یہ کہتے ہیں کہ آپ یہ کام نہ کریں اور میں یہ کہوں کہ آپ کو قربانی دینے کی ضرورت نہیں ہے، آپ اپنا کام جاری رکھیں، تو میرے خیال میں ایک اچھا مباحثہ جنم لے گا، اور میں چاہوں گا کہ اسی موضوع پر مباحثہ ہو‘‘۔

خاتون امیدوار کلوبچر کی انتخابی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ منگل کے روز آئیووا میں ہونے والی کاکس میں وہ آخری نمبر پر تھیں، جب کہ نیو ہیمپشائر میں ہونے والے پرائمری انتخاب میں وہ تیسری پوزیشن پر نظر آئیں۔ اس سے قبل سبھی یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ عطیہ اکٹھا کرنے کی ان کی مہم زوروں پر ہے، لیکن اس لحاظ سے پانچ سرکردہ امیدوار وہی ہیں جنھوں نے حالیہ دنوں کے دوران 6 ملین ڈالر سے زیادہ کا فنڈ اکٹھا کیا؛ اور وہ مقابلے کے میدان اور اشتہاری مہم میں رقوم استعمال کرتے ہوئے آگے نظر آئے۔ بدھ کے روز کلوبچر نے نیواڈا کے دو نئے ٹیلی ویژن چینلوں پر اشتہار چلائے اور ڈیجیٹل اشتہار دیے۔

بدھ کے روز بائیڈن کی نامزدگی کی مہم نے فنڈ فراہم کرنے والوں کو یقین دہانی کرائی کہ بہتر میڈیا حکمت عملی سے وہ اپنی کارکردگی میں بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔

بٹیجج اور کلوبچر دونوں ہی قومی انتخابی میدان پر نئے وارد ہوئے ہیں۔

ادھر، سینیٹر الزبیتھ وارن اپنی انتخابی مہم کو وسیع کر رہی ہیں۔ ان کی یہی کوشش ہے کہ ساؤتھ کیرولینا کے سیاہ فام ووٹروں کی حمایت حاصل کریں، جو ڈیموکریٹ پارٹی کا ایک اہم حلقہ ہے، جہاں افریقی امریکی ووٹروں کی خاصی تعداد آباد ہے۔

نیو ہیمپشائر پرائمری مرحلے کے انتخاب میں، ایلزبتھ وارن چوتھے نمبر کی نمایاں امیدوار تھیں۔ میساچیوسٹس کی سینیٹر نے ساؤتھ کیرولائنا میں ٹیلی ویژن سے اشتہار واپس لے لیا ہے۔ برعکس اس کے، ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ رقم اب ریڈیو اور پرنٹ میڈیا پر خرچ ہو گی، جب کہ نیواڈا اور مئین میں ٹیلی ویژن اشتہار چلایا جائے گا، جہاں تین مارچ کو ’سوپر ٹیوزڈے‘ کا مقابلہ ہو گا۔ یہاں سے نامزدگی کی دوڑ کیلی فورنیا اور ٹیکساس کی جنوبی ریاستوں کی جانب رخ کرے گی۔

اب تک نیو یارک کے سابق میئر، مائیکل بلومبرگ نامزدگی کی دوڑ کے گراف میں کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ وہ نامزدگی کی دوڑ کے سب سے فیصلہ کن دن ’سوپر ٹیوزڈے‘ پر سامنے آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں وہ متمول ریاستوں کے ڈیلیگیٹس پر نظر جمائے ہوئے ہیں۔ بلومبرگ کی کوشش بھی یہی ہے کہ وہ سیاہ فام امریکی ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کریں، جب کہ جو بائیڈن کی بھی یہی کوشش رہی ہے۔

بدھ کے روز بلومبرگ نے ریاست ٹینیسی کے شہر چٹونگا کے ایک افریقی امہ ان ریاستوں میں سے ریکی میوزیم میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ یہاں تین مارچ کو ’سوپر ٹیوزڈے‘ کے انعقاد کے روز ووٹنگ ہوگی۔ اب تک ان کے مد مقابل نامزدگی کا خواہشمند کوئی اور امیدوار ان ریاستوں میں انتخابی سرگرمی میں مصروف نظر نہیں آیا۔

ادھر میساچوسٹس کے سابق گورنر اور ڈیمو کریٹک صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شریک واحد افریقی امریکی امیدوار ڈیول پیٹرک 2020ء کے صدارتی مقابلے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG