رسائی کے لنکس

الاباما الیکشن: ری پبلکنز کو شکست، ڈیموکریٹ امیدوار سینیٹر منتخب


سینیٹر منتخب ہونے والے ڈیموکریٹ ڈگ جونز

الاباما کا شمار امریکہ کی انتہائی قدامت پسند ریاستوں میں ہوتا ہے اور ڈگ جونز گزشتہ 25 برسوں میں یہاں سے سینیٹ کے رکن منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ ہیں۔

امریکہ کی جنوبی ریاست الاباما سے خالی ہونے والی امریکی سینیٹ کی نشست پر خصوصی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ڈگ جونز ری پبلکن امیدوار رائے مور کو ہرا کر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔

الاباما کا شمار امریکہ کی انتہائی قدامت پسند ریاستوں میں ہوتا ہے اور ڈگ جونز گزشتہ 25 برسوں میں یہاں سے سینیٹ کے رکن منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ ہیں۔

منگل کو ہونے والی ووٹنگ کے نتائج کے مطابق ڈگ جونز نے انتہائی کم مارجن سے ریاست میں فتح حاصل کی۔ انہیں اپنے ری پبلکن حریف کے 4ء48 فی صد ووٹوں کے مقابلے میں 9ء49 فی صد ووٹ ملے۔

الاباما کی یہ نشست ری پبلکن سینیٹر جیف سیشنز کی جانب سے صدر ٹرمپ کی کابینہ میں اٹارنی جنرل کا عہدہ قبول کرنے کے نتیجے میں خالی ہوئی تھی۔

اس نشست پر ڈیموکریٹ کی کامیابی کے بعد 100 رکنی امریکی سینیٹ میں ری پبلکن کی اکثریت ایک نشست کی کمی کے بعد 51 ہوگئی ہے جب کہ جنوری میں ڈگ جونز کی حلف برداری کے بعد ایوان میں ڈیموکریٹس کی تعداد 49 ہوجائے گی۔

سینیٹ میں ری پبلکن کی اکثریت میں کمی سے ٹیکس نظام میں اصلاحات سمیت صدر ٹرمپ کے قانونی ایجنڈے پر پیش رفت کی راہ میں مشکلات حائل ہوسکتی ہیں۔

الاباما کی اس نشست پر ہونے والے انتخاب پر پورے امریکہ کی نظریں جمی ہوئی تھیں اور اسے صدر ٹرمپ کے لیے ایک امتحان قرار دیا جارہا تھا جنہوں نے جنسی بے راہ روی کے الزامات کا سامنے کرنے والے ری پبلکن امیدوار کی حمایت کی تھی۔

اس نشست پر انتخاب کے لیے ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان سخت مقابلہ تھا جس کے لیے دونوں امیدواروں نے سرگرمی سے انتخابی مہم چلائی تھی۔

ری پبلکن امیدوار رائے مور نے تاحال اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے
ری پبلکن امیدوار رائے مور نے تاحال اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے

تاہم ری پبلکن امیدوار کی انتخابی مہم کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا تھا جب مہم کے دوران متعدد خواتین نے ان پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اس وقت ان خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات کی تھیں جب وہ لڑکپن کے دور سے گزر رہی تھیں۔

لیکن رائے مور نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن سے دستبردار ہونے سے متعلق کئی ممتاز ری پبلکن رہنماؤں کے مطالبوں کو بھی نظر انداز کردیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ابتداً رائے مور کی حمایت سے احتراز کیا تھا لیکن بعد ازاں سینیٹ کی نشست کو ری پبلکنز کے ہاتھ میں رکھنے کی امید پر انہوں نے ان کی حمایت کردی تھی۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ڈگ جونز کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کی نظریں 2020ء میں ہونے والے سینیٹ کے انتخاب پر جمی ہوئی ہیں۔

تاہم ری پبلکن امیدواررائے مور نے اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے اور ان کی مہم کے ذمہ داران نے عندیہ دیا ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کرسکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG