رسائی کے لنکس

logo-print

مجوزہ امن کانفرنس میں ’شام فائربندی کی تجویز پیش کرے گا‘


نائب وزیرِ اعظم قادر جمیل نے کہا کہ تنازع ایسی صورت حال اختیار کر چکا ہے جس میں کوئی فریق پیش رفت نہیں کر رہا، اور نا حکومت اور نا ہی باغی اتنے طاقتور ہیں کہ ایک دوسرے کو شکست دے سکیں۔

شام کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ مجوزہ امن کانفرنس میں وہ فائر بندی کا مطالبہ کرے گی۔

نائب وزیرِ اعظم قادر جمیل نے برطانوی اخبار ’دی گارڈیئن‘ کو بتایا کہ تنازع ایسی صورت حال اختیار کر چکا ہے جس میں کوئی فریق پیش رفت نہیں کر رہا، اور نا حکومت اور نا ہی باغی اتنے طاقتور ہیں کہ ایک دوسرے کو شکست دے سکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں شام کی حکومت ’’بیرونی مداخلت کے خاتمے‘‘ اور ’’پُر امن سیاسی عمل‘‘ کے آغاز کی تجاویز بھی پیش کرے گی۔

امریکہ اور روس گزشتہ کئی ماہ سے شام کی حکومت اور باغی فورسز کو ’’جنیوا ٹو ٹاکس‘‘ نامی اجلاس میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مذاکرات کا گزشتہ برس ہونے والا دور کسی کامیابی کے بغیر اختتام پذیر ہو گیا تھا اور اس میں دونوں فریقوں کے نمائندے شریک نہیں ہوئے تھے۔

شام کی منقسم حزبِ اختلاف نے صدر بشار الاسد کے استعفی تک مذاکرات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

شام کے تنازع کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششیں امریکہ، روس کے حالیہ معاہدے کے بعد بحال ہو گئی ہیں۔ امریکہ اور روس کے منصوبے کے تحت مسٹر اسد شام کے کیمیائی ہتھیار تلف کریں گے۔
XS
SM
MD
LG