رسائی کے لنکس

کراچی: کانگو وائرس سے بے خوفی، تمام احتیاطی تدابیر نظرانداز


کانگو وائرس سے ’بے خوفی‘ اور لاپرواہی کا یہ عالم تھا کہ بار بار یہ اعلان کئے جانے کے باوجود کہ کانگو وائرس جانوروں کی جلد میں موجود ٹکس کے ذریعے پھیلتا ہے، ان سے دور رہا جائے، لوگوں نے کسی حفاظتی انتظام کے بغیر اپنے ہاتھوں سے جانوروں کو نہلایا

ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی پیر کو دینی جوش و جذبے کے ساتھ عید الاضحی منائی گئی اور بہت بڑی تعداد میں جانور قربان کئے گئے۔ لوگ شام گئے تھے ان جانوروں کا گوشت اپنے رشتے داروں اور دوستوں کے گھر جا جا کر تقسیم کرتے اور ایک دوسرے کو گلے لگاکر مبارک بادیں دیتے رہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق، شہر بھر میں ایک لاکھ سے زائد جانور قربان کئے گئے۔ لیکن، شاید ہی کوئی ایک آدھ شخص ایسا ہوگا جس سے کانگو وائرس سے بچنے کے لئے وزارت صحت اور دیگر متعلقہ کی جانب سے جاری کی گئی احتیاطی تدابیر اپنائی ہوں۔ ورنہ 99فیصد سے بھی زیادہ لوگوں نے جانوروں کی جلد میں موجود کانگو وائرس کی موجودگی کے خطرے کو بری طرح نظر انداز کیا۔

پیر کو وائس آف امریکہ کے نمائندے نے شہر کے متعدد علاقوں کا دورہ کیا اور لوگوں کو جانور قربان کرتے دیکھا مگر کسی ایک جگہ بھی کوئی دستانے پہنے ہوئے نظر نہیں آیا، نہ ہی کسی نے ماسک پہنا ہوا تھا۔ بلکہ، کانگو وائرس سے ’بے خوفی‘ اور لاپرواہی کا یہ عالم تھا کہ بار بار یہ اعلان کئے جانے کے باوجود کہ کانگو وائرس جانوروں کی جلد میں موجود ٹکس کے ذریعے پھیلتا ہے، ان سے دور رہا جائے، لوگوں نے کسی حفاظتی انتظام کے بغیر اپنے ہاتھوں سے جانوروں کو نہلایا۔

عید سے دو روز قبل نارتھ ناظم آباد کے دورے کے موقع پر نمائندے نے یہ حیرت انگیز مشاہدہ بھی کیا کہ شہروز نامی ایک گھر کا کم عمر ملازم اپنے ناخنوں سے اپنے مالک کے بیل کی جلد کو رگڑ رگڑ کر صاف کررہا تھا۔

بیشتر علاقوں کے نوجوانوں نے اپنی گائے سے محبت کے اظہار میں کپڑے دھونے کے برش سے ان کی جلد پر بار بار ’کنگھی‘ کی۔ ان میں سے ایک نوجوان سلیم کا کہنا تھا ’سخت ’دانتوں والے برش‘ سے جانور کی جلد پر ’کھجلی‘ کرنے سے جانور کو سکون ملتا ہے۔ اس کی جلد صاف تو ہوتی ہی ہے اس میں ایک طرح کی ’شائننگ‘ بھی پیدا ہوجاتی ہے۔‘

جانور قربان کرنے والوں کی طرح ہی کھالیں جمع کرنے والے سیاسی و دینی جماعت کے رضاکاروں نے بھی کانگو وائرس سے بچنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا۔ ’مدنی مسجد و مدرسہ‘شادمان ٹاوٴن کے ایک رضاکار نے وی او اے کے استفسار پر بتایا ’کانگو وائرس۔۔وائرس ہے کوئی وباء تو نہیں کہ ہر آدمی ماسک اور دستانے پہنتا پھرے۔ ایسا ہونے لگے تو نہ کوئی جانور قربان ہوتا نہ ہم کھالیں جمع کررہے ہوتے۔‘

کانگووائرس سے 28 اموات
پاکستان میں رواں سال ’کریمین کانگو ہیمرجک فیور‘ یعنی جسے حرف عام میں ’کانگو وائرس‘ کہا جاتا ہے،اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 44 ہو چکی ہے جس کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا تھا۔

نیشنل ہیلتھ سروسزریگولیشن اینڈ کورآرڈی نیشن کی وزارت، عالمی ادارہ صحت اور ’ایپی ڈیمیولوجیکل بلیٹن‘ کی مشترکہ طور پر تیار کردہ رپورٹس کے مطابق ملک میں ستمبر تک کانگو وائرس کے 44وائرس رپورٹ ہوئے جِن میں سے 28مریض موت کے شکنجے سے نہ بچ سکے، جبکہ پچھلے سال 47افراد کانگو وائرس کا شکار ہوئے۔

وزارت صحت، کمشنر آفس کراچی اور دیگر متعلقہ اداروں اور اسپتالوں کی جانب سے عید الاضحی کے موقع پر عوام کو جانوروں سے براہ راست رابطے سے منع کیا تھا، جبکہ دیگر احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنے کے لئے بارے آگاہی مہم چلائی گئی تھی۔ لیکن، عام مشاہدے کے مطابق کسی نے بھی احتیاط نہیں کی۔

ماہرین طب نے بچوں کو خاص طور سے منڈی لے جانے سے منع کیا تھا لیکن نمائندے نے عید سے ایک روز قبل بھی متعدد بچوں کو والدین کے ساتھ منڈی میں جانوروں کی خریداری میں شریک دیکھا۔

کراچی میں دو اموات
کراچی میں کانگووائرس سے اب تک دو اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔ ستمبر کے آخری ہفتے میں کراچی کے علاقے۔۔۔سے تعلق رکھنے والا 51سالہ محمد جاوید اور اس سے قبل لیاقت آباد کا رہائشی کاشف نامی قصاب کانگو وائرس میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوچکا ہے۔ وزارت صحت کے حکام نے بھی ان کی موت کی تصدیق کی تھی۔

XS
SM
MD
LG