رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی نژاد کینیڈین ماہرِ تعلیم تہران جیل میں 'انتقال' کر گئے


تہران جیل۔ فائل فوٹو

کاوس کو گزشتہ ماہ ایرانی حکام نے تحویل میں لیا تھا اور ان کے بیٹے رائم امامی کے بقول حکام نے بتایا کہ ان کے والد خودکشی کی۔

ایرانی نژاد کینڈین ماہر تعلیم اور سرگرم ماحولیاتی کارکن تہران کی جیل میں دوران قید انتقال کر گئے۔

کاوس سید امامی کے وفات کی خبر ان کے بیٹے ہفتہ کو ٹوئٹر پر دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ کو یہ اطلاع گزشتہ روز دی گئی۔

کاوس کو گزشتہ ماہ ایرانی حکام نے تحویل میں لیا تھا اور ان کے بیٹے رائم امامی کے بقول حکام نے بتایا کہ ان کے والد خودکشی کی۔

کاوس سید امامی امریکی تعلیم یافتہ تھے اور 'پرشیئن وائلڈ لائف ہیریٹج فاونڈیشن' کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔ یہ فاونڈیشن ایران میں نایاب جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔

کاوس کئی دہائیوں تک تہرام کی امام صادق یونیورسٹی میں سوشیالوجی پڑھاتے رہے۔ یہ یونیورسٹی سخت گیر موقف کی حامل درس گاہ تصور کی جاتی تھی جہاں مستقبل میں ایران کی اشرافیہ میں شامل ہونے والے افسران بھی زیرتربیت ہوتے ہیں۔

ایرانی حکام نے کاوس سید امامی کی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان کی موت کی سرکاری طور پر تصدیق کی گئی ہے۔

وہ دہری شہریت کے حامل بتائے جاتے ہیں اور کینیڈا کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متعلقہ کاوس سید امامی کے گرفتاری کے معاملے پر غور کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG