رسائی کے لنکس

logo-print

رینجرز کے اختیارات پر سندھ اور وفاق میں کشیدگی جاری


پیر کو کراچی کی سیاسی، دینی، مذہبی اور تجارتی تنظیموں نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے حق میں سڑکوں پر احتجاج کیا جبکہ سندھ اسمبلی اس معاملے پر مچھلی بازار بنی رہی۔

رینجرز کو خصوصی اختیارات کی تفویض کے معاملے پر سندھ حکومت اور وفاق میں فاصلے بڑھتے جارہے ہیں۔

دو روز قبل وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، ان کے مشیر مولا بخش چانڈیو اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان الفاظ کی وہ جنگ چھڑی کہ میڈیا کی ایک کے بعد ایک شہ سرخی اسی رنگ میں رنگتی چلی گئی۔

پیر کو کراچی کی سیاسی، دینی، مذہبی اور تجارتی تنظیموں نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے حق میں سڑکوں پر احتجاج کیا جبکہ سندھ اسمبلی اس معاملے پر مچھلی بازار بنی رہی۔

حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی، اسپیکر کا گھیراوٴ کیا اور نعروں کے درمیان ہی اسپیکر کو اجلاس منگل کی صبح تک ملتوی کرنا پڑا۔

اس دوران رینجرزکے اختیارات میں توسیع سے متعلق قرارداد پیر کو بھی سندھ اسمبلی میں پیش نہ کی جاسکی۔ قرارداد لانے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔ تاہم متحدہ قومی موومنٹ نے اس احتجاج میں حصہ نہیں لیا اور خود کو اس معاملے سے لاتعلق رکھا۔

وفاق اور سندھ کے درمیان الزامات در الزامات کا سلسلہ 5 دسمبر کو شروع ہوا تھا۔ پیر کو سندھ کے سینئر وزیر نثار کھوڑو بھی اس میدان میں کود پڑے۔ نثار کھوڑو نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ جمہوری اداروں کی اہمیت کو گھٹا کر گورنر راج لانا چاہتے ہیں۔"

جواباً وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پیر کو بھی صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کی پالیسی پر سخت تنقید کی۔

رینجرز اختیارات میں توسیع میں تاخیر پر سیاسی و مذہبی جماعتیں سڑکوں پر آگئیں اور شہر کے مختلف مقامات پر سندھ حکومت کے خلاف اور فوج اور رینجرز کے حق میں مظاہرے کیے۔ مطاہرین نے سندھ حکومت سے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے کرنے والوں میں سنی تحریک، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ فنکشنل اور تاجروں، بلڈرز اور صنعتکاروں کی نمائندہ تنظیمیں شامل تھیں۔

XS
SM
MD
LG