رسائی کے لنکس

میانمار کے حکام اپنے وعدے نبھائیں: سفارت کار


بنگلہ دیش روہنگیا کیمپ

کوفی عنان نے خبردار کیا کہ امن و امان کا حصول آسان نہیں۔ اُنھوں نے اصل اسباب کی جانب توجہ مبذول کرائی، جن میں نسلی امتیاز، غربت اور شہری حقوق شامل ہیں، جن کا حل لازم ہے

برطانیہ اور فرانس سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کے ایلچیوں نے میانمار کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وعدوں پر عمل کرے، تشدد کا خاتمہ لائیں اور لاکھوں روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے حالات سازگار بنائے جائیں۔

میانمار کی فی الواقع سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے، برطانوی سفیر میتھیو رے کروفٹ نے جمعے کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ''کل ہم نے آنگ سان سوچی کی تقریر سنی، جس کے ابتدائی خیالات میں طویل مدتی مستقبل کو تعمیر کرنے کا ذکر تھا۔ اور ہم نظر رکھیں گے کہ وہ اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے کیا کرتی ہیں''۔

نسل کشی کے الزامات

گذشتہ سات ہفتوں کے دوران، 536000 روہنگیا افراد سرحد پار کرکے ہمسایہ بنگلہ دیش میں داخل ہو چکے ہیں، جس کا سبب اُن کی اقلیتی برادری کے خلاف سخت فوجی کارروائی ہے، جس سے قبل روہنگیا کے شدت پسندوں نے ملک کی سلامتی افواج پر مہلک حملے کیے تھے۔

فرانس کے سفیر، فرانسواں دیترے نے متنبہ کیا کہ ''یہ نسل کشی کا معاملہ ہے جو ہماری آنکھوں سے سامنے ہو رہا ہے''۔ میانمار کے حکام نے کئی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی حکام کے ایسے الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

بھاگ نکلنے والے روہنگیا افراد نے شمالی رخائن کی ریاست میں فوج کے ہاتھوں اپنے دیہات کو نذر آتش کرنے، جنسی زیادتیاں، ہلاکتیں، لوٹ مار اور لوگوں کو اپنے گھروں کی جانب واپس لوٹنے سے روکنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کے بارے میں دہشتناک داستانیں سنائیں۔

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے معاون سکریٹری جنرل، اینڈریو گلمور نے کہا ہے کہ موجودہ بحران ''ممکنہ طور پر، دنیا میں انسانی حقوق کے بحرانوں میں یہ بحران سنگین ترین ہے''۔

نجی بریفنگ کے دوران، اُنھوں نے کونسل کے ارکان کو بتایا کہ جرائم میں ملوث لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے، نا ہی تشدد کی کارروائیوں کے اصل اسباب پر بات کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔


رخائن میں امن و امان کا منصوبہ

گذشتہ سال، اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل، کوفی عنان سے درخواست کی گئی کہ وہ میانمار اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک مشاورتی کمیشن کی قیادت کریں، تاکہ رخائن کی صورت حال میں بہتری لانے سے متعلق حکومت کو سفارشات پیش کی جاسکیں۔

عنان نے جمعے کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ میں اس ضمن میں ایک تفصیلی نظام الاوقات پیش کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل کی بریفنگ کے بعد، اُنھوں نے کہا کہ ''یہ واضح ہے کہ مختصر مدت کے دوران، ضرورت مندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی، اور بالاخر بنگلہ دیش میں موجود پناہ گزینوں کی عزت کے ساتھ رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کے حوالے سے کیا کرنا چاہیئے سبھی اس سے اتفاق کرتے ہیں''۔

کوفی عنان نے خبردار کیا کہ امن و امان کا حصول آسان نہیں۔ اُنھوں نے اصل اسباب کی جانب توجہ مبذول کرائی، جن میں نسلی امتیاز، غربت اور شہری حقوق شامل ہیں، جن کا حل لازم ہے۔

عنان نے کہا کہ ''وہ تبھی واپس جائیں گے جب اُنھیں سلامتی کا یقین ہوگا اور اس بات کا اعتماد ہوگا کہ اُن کی زندگیوں میں بہتری آئے گی''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG