رسائی کے لنکس

logo-print

لوئر دیر دھماکے کی تفتیش کے سلسلے میں 35 مشتبہ افراد گرفتار


پاکستان کے شمال مغربی صوبے کے ضلع لوئر دیر کے پولیس سربراہ ممتاز زرین نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ایک روز قبل ہونے والے بم دھماکے کی تفتیش کے سلسلے میں کم از کم 35 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ اُنھوں نے یہ انکشاف بھی کیا یہ بم دھماکا دراصل ایک خودکش بمبار کی کارروائی تھی ۔

واضح رہے کہ بدھ کو ہونے والے اس بم حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں امریکی فوج کے تین ماہرین اور فرنٹیئرکور کا ایک اہل کار بھی شامل تھا جب کہ اس حملے میں دو امریکی باشند وں سمیت درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے فورا ًبعد پاکستانی فوج نے جو بیان جاری کیا تھا اُس کے مطابق بم کا یہ دھماکا ریمورٹ کنٹرول سے کیا گیا تھا اور بارودی مواد سڑک میں نصب کیا گیا تھا جس سے اُس قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس میں امریکی فوجی اور فرنٹیئر کور کے اہل کار سفر کر رہے تھے۔ فوجی بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ قافلے میں موجود امریکی باشندے فرنٹیئر کور کے جوانوں کو تربیت فراہم کرنے والے فوجی ماہر ین تھے۔

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ اُس کے جنگ جوؤں کی کارروائی تھی لیکن آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔ امریکی سفارت خانے نے بھی اس بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ فرنٹیئر کور کی دعوت پر لڑکیوں کے ایک سکول کی افتتاحی تقریب میں جارہے تھے جو امریکہ کی مالی امداد سے تعمیر کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق طاقت ور بم دھماکے نے سڑک کے قریب لڑکیوں کے ایک اور سکول کی عمارت کو بھی تباہ کردیا جس کے ملبے تلے دب کر چار طالبات ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئی تھیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے والے امریکی فوجیوں پر اپنی نوعیت کا یہ پہلا حملہ تھا۔

دریں اثنا پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں فوجی کارروائی جاری ہے اور اس دوران گذشتہ روز 12 جنگ جوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ڈمڈولا کے علاقے میں عسکریت پسندوں کو ان کے ٹھکانے سے نکالنے کے لیے پاک فوج گن شپ ہیلی کاپٹر اور توپ خانے کا استعمال کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG