رسائی کے لنکس

تحفظ اطفال کے قوانین پرعملدرآمد کی صورتحال 'غیر تسلی بخش'


فائل فوٹو

چیئرمین سینٹ کے بقول ریاست ایسے معاملات پر آنکھ بند نہیں کر سکتی اور موجودہ قوانین پر موثر انداز میں عملدرآمد سے ہی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے

بچوں کے تحفظ اور حقوق سے متعلق پاکستان میں صورتحال کے غیر تسلی بخش ہونے کا تذکرہ تو ہمشیہ سے ہی ہوتا آرہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بعض واقعات نے اس ضمن میں تشویش کو ایک بار پھر مہمیز کر دیا ہے۔

گزشتہ اتوار کو راولپنڈی میں ایک نو سالہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کی کوشش میں ناکامی پر ملزمان نے آگ لگا دی تھی جو تاحال اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر رکھی ہے جب کہ گزشتہ ماہ طیبہ نامی دس سالہ گھریلو ملازمہ پر اس کے مالکان کی طرف سے مبینہ تشدد کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران بھی چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ قوانین طیبہ جیسے بچوں کو بظاہر تحفظ فراہم نہیں کر سکتے جو کہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ کی طرف سے ایسے بیان سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

حالیہ برسوں میں خواتین اور بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے قانون سازی تو دیکھنے میں آئی ہے لیکن ان پر موثر عملدرآمد نہ ہونے کی بازگشت بھی جوں کی توں سنائی دے رہی ہے۔

ایک روز قبل ہی اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمان کے ایوان بالا کے چیئرمین رضا ربانی کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کی سطح پر بچوں کے تحفظ اور حقوق سے متعلق دو درجن سے زائد قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

ان کے بقول ریاست ایسے معاملات پر آنکھ بند نہیں کر سکتی اور موجودہ قوانین پر موثر انداز میں عملدرآمد سے ہی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے جس کے لیے ریاست اور ریاستی اداروں کو اپنا فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم موجودہ حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ اس نے خاص طور پر بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدام کیے ہیں جس سے ماضی کی نسبت صورتحال میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

انسانی حقوق کی وفاقی وزارت کے اعلیٰ عہدیدار حسن منگی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ بچوں سے متعلق سامنے آنے والے معاملات پر وزیراعظم کی ہدایت پر صوبائی حکومتوں سے رابطہ کر کے قوانین پر عملدرآمد کی بات کی گئی ہے جب کہ انسانی حقوق کی سوجھ بوجھ کو فروغ دینے کے لیے بھی صوبائی حکام کے ساتھ مل کر ایک منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے جس کے لیے حکومت نے 75 کروڑ روپے بھی مختص کر رکھے ہیں۔

"قوانین پر عملدرآمد کے لیے صوبائی حکومتوں سے بات ہو رہی ہے، وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ بچوں اور بچیوں کے حوالے سے معلامات جو سامنے آ رہے ہیں اس پر صوبائی لوگوں کو بلائیں، ہم نے بلایا ان سے کہا کہ یہ اقدام کریں۔ تو یہ ایک ماحول بن رہا ہے خاص طور پر میڈیا ان معاملات کو اجاگر کر رہا ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ ہم سب مل کر ایک اچھا ماحول تشکیل دے دیں گے۔"

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی محتسب نے بچوں کے لیے ملک بھر میں 13 کمشنر بھی بنائے ہیں جو اس طرح کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG