رسائی کے لنکس

logo-print

تعلیم کے فروغ کے لیے ایک معذور لڑکی کی کوشش


20 سالہ آنسو کوہلی نامی یہ لڑکی ایک ٹانگ سے معذور ہے مگر اس نے معذوری کو اپنی مجبوری نہیں بننے دیا اور اپنی توانائیاں تعلیم کی روشنی پھیلانے میں صرف کر رہی ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر عمرکوٹ سے چار کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے گاؤں میں درختوں کی شاخوں، بانسوں اور لکڑیوں سے بنا جھونپڑی اسکول اس دیہات کے بچوں کیلئے واحد 'ذریعہ تعلیم' ہے۔

اپنی نوعیت کا یہ اسکول ایک معذور لڑکی کا ہےجو اس چھوٹے سے گاؤں کے درجنوں بچوں کو مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے۔

آنسو کوہلی کو اس اسکول کو چلانے کے لیے نا تو کوئی سرکاری وسائل حاصل ہیں اور نا ہی کسی فلاحی ادارے یا این جی اوز سے کسی قسم کی کوئی مراعات۔ اس جھونپڑی اسکول میں 200 کے قریب بچے بچیاں علم حاصل کرنے آتے ہیں۔

20 سالہ آنسو کوہلی نامی یہ لڑکی ایک ٹانگ سے معذور ہے مگر اس معذوری میں بھی وہ تعلیم کے جذبے سے سرشار ہے اور اپنے گاؤں کے تمام بچوں کو پڑھا لکھا دیکھنا چاہتی ہے۔ آنسو کوہلی اپنے گاوں کی واحد لڑکی ہے جو گریجویشن کر رہی ہے۔

اپنی اس بہترین کاوش اور معاشرے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے بارے میں آنسو نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ "میں معذور ہوں اور بیساکھی کی مدد سے چلتی ہوں جبکہ میرے گاوں میں اس سے قبل کوئی بھی لڑکی بی اے تک تعلیم حاصل نہیں کر سکی ہے۔"

اپنے اسکول کے بارے میں آنسو بتاتی ہے کہ بچپن سے ہی اس کے والد نے اسے استانی کے روپ میں دیکھنا شروع کردیا تھا اور اس کے بقول والد کا کہنا تھا کہ تم پڑھ کر اپنے گاوں کے سب بچوں کو تعلیم دینا۔

"میرا باپ تو صرف ایک ہاری کسان تھا مگر وہ اپنی اس معذور بیٹی کے لیے استانی کے خواب دیکھتا تھا اسی کے باعث اس نے مجھے معذوری کے باوجود اتنا پڑھایا۔"

آنسو کہتی ہے کہ جب اس نے میٹرک پاس کر لیا تو اس کے والد دنیا سے چل بسے اور یہ وقت اس کے لیے بہت کٹھن تھا کیونکہ "تعلیم میں سہارا بننے والا والد ساتھ چھوڑ گیا مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور خود بیساکھِی کے سہارے ہی کالج میں داخلہ لیا۔"

اس نے بتایا کہ جب وہ بیساکھی کے سہارے اسکول جاتی لوگ اسے دیکھ کر ہنسے اور کہتے کہ یہ معذور لڑکی کیا بنے گی۔ "مگر میں نے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں سمجھا اور تعلیم عام کرنے کے لیے اپنے عزم کو جاری رکھا"۔

آنسو کے بقول اس کی معذوری کی وجہ بچپن میں لگوایا گیا ایک غلط انجیکشن تھا جس کی وجہ سے اس کی ایک ٹانگ مفلوج ہو گئی۔

بچوں کو تعلیم دینے کے سلسلے کی شروعات کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ "پہلے میں اپنے ہی خاندان کے کچھ بچوں کو پڑھایا کرتی تھی جب میں نے دیکھا کہ گاؤں کے بچے تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں تو سب کو پڑھانے کا سوچا اور کہا کہ جس کو پڑھنا ہے وہ میرے پاس آ جایا کرے دیکھتے ہی دیکھتے گاؤں کے چھوٹے بچے اور بچیاں پڑھنے آنے لگے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں چندہ جمع کر کے بچوں کے لیے کتابیں اور دیگر اشیا بچوں کے لیے حاصل کیں۔

آنسو بتاتی ہے کہ اس کے گاوں میں 5 سرکاری اسکول موجود ہیں مگر سب کے سب بند ہیں۔ اس کا شکوہ ہے کہ ان اسکولوں کو فعل کروانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

آنسو کے جھونپڑی اسکول کے بارے میں ان کے گاؤں کے ایک رہائشی جانب علی نامی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ "ایسے ماحول میں جب لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا ایک عیب سمجھا جاتا ہو آنسو بہت ہمت والی لڑکی ہے۔ اس نے نا صرف علم کا سفر جاری رکھا ہوا ہے بلکہ کسانوں کے خاندانوں میں بھی اس بات کو عام کیا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے برابر اہمیت رکھتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سرکاری اسکول موجود ہیں مگر سب بند ہیں، نا کوئی استاد ہے نا کوئی اسکول فعال ہے، جب کہ "گاؤں میں تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں"۔

آنسو کی خواہش ہے کہ اسے اس کے والد کے نام پر ایک اسکول بنا کر دیا جائے۔ " مجھے آگے بڑھنا ہے اور کسان کے بچوں کو علم کی روشنی دینی ہے۔"

وہ کہتی ہیں کہ وہ تعلیم کو ایسے عام کردے کہ اسی کی طرح علم کی شمعیں جلانے والی مزید 'آنسو کوہلی' لڑکیاں بنیں اور علم کو فروغ دیں"۔

XS
SM
MD
LG