رسائی کے لنکس

logo-print

قدرتی آفات میں معذور افراد کی مشکلات: رپورٹ اقوام ِ متحدہ


126 ممالک میں 5,450 معذور افراد پر اقوام ِ متحدہ کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق قدرتی آفات کی صورت میں معذور افراد کی ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور انہیں وہ مدد نہیں پہنچائی جاتی جس کے وہ حق دار ہیں۔

اقوام ِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق کسی بھی قدرتی آفت کے نتیجے میں جسمانی طور پر معذور افراد کی موت کی شرح ان افراد کی نسبت زیادہ ہوتی ہے جو کسی جسمانی عارضے میں مبتلا نہیں۔

اقوام ِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس کی ذمہ داری قدرتی آفات سے متعلق اداروں اور حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔

126 ممالک میں 5,450 معذور افراد پر اقوام ِ متحدہ کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق قدرتی آفات کی صورت میں معذور افراد کی ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

سروے میں شامل 20٪ معذور افراد کا کہنا تھا کہ کسی قدرتی آفت کے نتیجے میں وہ فوری طور پر کسی محفوظ مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ اکثریت کا کہنا تھا کہ انہیں کسی حادثے کے نیتجے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 6٪ معذور افراد کا کہنا تھا کہ وہ قدرتی آفت کے نتیجے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 15٪ آبادی کسی نہ کسی جسمانی عارضے کا شکار ہے۔

چند معذور افراد نے حادثوں کی صورت میں اپنی مشکلات بیان کیں۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ خراب موسم میں فوری طور پر اپنی جگہ چھوڑنے کی کوشش میں انہیں اپنی وہیل چئیر پر ہی سونا پڑا تھا۔

اقوام ِ متحدہ میں آفات سے بچاؤ سے متعلق ادارے کی سربراہ مارگریٹا والسٹروم کہتی ہیں کہ، ’اس سروے کے نتائج حیران کن تھے۔ اس سروے سے یہ واضح ہوا کہ قدرتی آفات اور حادثات کے نتیجے میں جسمانی عوارض میں مبتلا افراد اس لیے زیادہ بڑی تعداد میں مارے جاتے ہیں کیونکہ ان کی ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہیں مکمل طور پر اپنے خاندان، دوستوں اور پڑوسیوں کی مدد پر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘

جسمانی طور پر معذور افراد سے سیلاب، شدید موسموں، طوفانوں، خشک سالی اور زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی مشکلات پر سروے کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG