رسائی کے لنکس

logo-print

اقوامِ متحدہ کا افغان مہاجرین کے حالات پر اظہارِ تشویش


اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے درونِ خانہ بے گھر ہونے والے افغان باشندوں کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔

افغانستان کے دورے پر موجود اقوامِ متحدہ کی انڈر سیکریٹری برائے امدادی امور ویلری آموس نے بدھ کو دارالحکومت کابل میں عارضی قیام گاہوں میں مقیم 80 افغان خاندانوں سے ملاقات کی۔

مذکورہ خاندان امن و امان کی ابتر صورتِ حال کے باعث اپنے آبائی علاقوں سے نقل مکانی کرکے کابل میں مقیم ہیں۔

ملاقات کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کے وسط میں مقیم ان خاندانوں کی "ناقابلِ قبول" حالت کو دیکھ کر انہیں انتہائی صدمہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کے یہ خاندان جن مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں وہ ان کی قیام گاہوں سے عیاں ہیں۔ آموس نے کہا کہ ان افراد کو اس درجہ ابتر سہولیات کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور کرنا انتہائی نامناسب اور ناقابلِ قبول ہے۔

عالمی ادارے کی عہدیدار منگل کو افغانستان کے چار روزہ دورے پر کابل پہنچی تھیں۔ اقوامِ متحدہ کے اعلامیہ کے مطابق آموس نے افغان مہاجرین کی جھونپڑیوں پر مشتمل بستی کا دورہ کیا جہاں انہیں پینے کا صاف پانی، مناسب غذا اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

اپنے دورے کے دوران میں عالمی ادارے کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری محاذ آرائی، قدرتی آفات اور روزگار کے مواقع موجود نہ ہونے کے باعث ملک کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی بے گھری اور نقل مکانی کے دکھ اٹھا چکی ہے۔

انہوں نے ان بے گھر افراد کے لیے موثر امداد اور طویل المدت منصوبے فوری طور پر شروع کرنے پہ زور دیا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ 2002ء سے اب تک بیرونِ ملک پناہ گزین 57 لاکھ افغان باشندے وطن واپس لوٹ چکے ہیں لیکن اب بھی 50 لاکھ کے قریب افغان پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران میں پناہ گزینوں کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری جنگ اوردیگر قدرتی آفات کے باعث لگ بھگ پانچ لاکھ افغان باشندے اندرونِ ملک بھی بے گھری کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔

XS
SM
MD
LG