رسائی کے لنکس

logo-print

ورلڈ نمبر ون جوکووچ نے آسٹرلین اوپن چیمپئن شپ جیت لی


نوویک جوکووچ آسٹرلین اوپن جیتنے کے بعد خوشی کا اظہار کر رہے ہیں

آسٹرلین اوپن ٹینس چیمپئن شپ کے فائنل میں ورلڈ نمبر ون کھلاڑی نوویک جوکووچ نے ورلڈ نمبر دو کھلاڑی رفائل نڈال کو 6-3, 6-2 اور 6-3 سے سٹریٹ سیٹس میں شکست دے دی اور یوں اُنہوں نے عالمی نمبر ایک کی رینکنگ برقرار رکھی ہے۔

اس فتح کے ساتھ جوکووچ آسٹریلین اوپن چیمپئن شپ سات مرتبہ جیتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اُن کی اتوار کے روز کھیلے گئے فائنل میں شاندار فتح اسلئے بھی اہم ہے کہ محض 12 ماہ قبل اُن کی کہنی کی سرجری ہوئی تھی اور اُس کے بعد جوکووچ نے اپنی فٹنس کے ساتھ ساتھ اپنی فارم بحال کرنے کیلئے سخت محنت کی ہے۔

نڈال جوکووچ کو فائنل جیتنے پر مبارک باد دے رہے ہیں
نڈال جوکووچ کو فائنل جیتنے پر مبارک باد دے رہے ہیں

آسٹرلین اوپن کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جوکووچ نے کہا کہ ایک سال قبل سرجری کے بعد آج میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں اور میں نے گزشتہ چار گرینڈ سلیم ٹائٹلز میں سے تین حاصل کئے جو میرے لئے زبردست بات ہے۔

جوکووچ اب تک 15 مرتبہ گرینڈ سلیم ٹائٹل جیت چکے ہیں جبکہ آسٹریلین اوپن فائنل میں اُن سے شکست کھا جانے والے عالمی نمبر دو کھلاڑی رفائل نڈال نے 17 مرتبہ گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتے ہیں۔ تاہم سب سے زیادہ گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کا ریکارڈ راجر فیڈرر کے پاس ہے جو آسٹرلین اوپن کے چوتھے راؤنڈ میں شکست کھا کر مقابلے سے باہر ہوگئے تھے۔ اُنہوں نے سب سے زیادہ یعنی 20 مرتبہ گرینڈ سلیم مقابلے جیتے ہیں۔

جوکووچ آسٹرلین اوپن چیمپئن شپ ٹرافی کے ساتھ
جوکووچ آسٹرلین اوپن چیمپئن شپ ٹرافی کے ساتھ

اتوار کے روز ملبرن میں ہونے والا آسٹریلین اوپن فائنل میچ دو گھنٹے اور چار منٹ تک جاری ہے۔ اس سے پہلے 2012 کے آسٹریلین اوپن فائنل میں بھی جوکووچ اور نڈال ایک دوسرے کے مد مقابل تھے اور اُس مقابلے کا فیصلہ پانچ گھنٹے 53 منٹ میں ہوا تھا جو ٹینس کی تاریخ کا طویل ترین مقابلہ ہے۔

جوکووچ اور نڈال بڑے بین الاقوامی ٹورنمنٹس میں اب تک 53 مرتبہ ایک دوسرے کے خلاف کھیل چکے ہیں جن میں سے جوکوچ 28 اور نڈال 25 مقابلوں میں فاتح رہے۔

آسٹرلین اوپن کے بعد اگلا گرینڈ سلیم مقابلہ فرنچ اوپن ہو گا جو اب سے چار ماہ بعد منعقد ہو رہا ہے۔ اگر جوکووچ کو مقابلہ بھی جیت جاتے ہیں تو وہ چاروں بڑی گرینڈ سلیم چیمپئن شپس جیتنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔

جاپان کی اوساکا ویمنز ٹائٹل جیتے کے بعد ٹرافی کے ساتھ
جاپان کی اوساکا ویمنز ٹائٹل جیتے کے بعد ٹرافی کے ساتھ

اُدھر خواتین کے فائنل مقابلے میں جاپان کی ناؤمی اوساکا چیک کھلاڑی پیٹرا کویٹووا کو شکست دے کر خواتین کی عالمی رینکنگ میں نمبر ایک کھلاڑی بن گئی ہیں۔

ہفتے کے روز ہونے والے خواتین کے سنگلز فائنل میں جاپان کی ناؤمی اوساکا نے چیک کھلاڑی پیٹرا کویٹووا کو 7-6 (7-2), 5-7 اور 6-4 سے ہرا دیا۔ اس سے پہلے 21 سالہ اوساکا یو ایس اوپن بھی جیت چکی ہیں۔

ویمنز فائنل کے بعد کویٹووا اوساکا کو مبارکباد دے رہی ہیں
ویمنز فائنل کے بعد کویٹووا اوساکا کو مبارکباد دے رہی ہیں

اوساکا نے چیمپئن شپ جیتنے کے بعد مختصر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ فائنل کھیلنے کو اپنے لئے ایک اعزاز سمجھتی ہیں۔

اوساکا سے شکست کھانے والی پیٹرا کوویٹووا دو مرتبہ ومبلڈن چیمپئن شپ جیت چکی ہیں۔ 28 سالہ پیٹرا کویٹووا پر ایک شخص نے دسمبر 2016 میں اُن گھر میں گھس کر چاقو سے حملہ کر دیا تھا جس سے اُن کا بایاں ہاتھ شدید زخمی ہو گیا تھا۔ ہفتے کے روز آسٹرلین اوپن چیمپئن شپ فائنل ہارنے کے بعد اُنہوں نے کہا کہ اس قاتلانہ حملے کے بعد زندہ بچ جانے اور آسٹرلین اوپن فائنل کھیلنے پر وہ خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG