رسائی کے لنکس

logo-print

خیبرپختونخوا میں مریض علاج کے لیے کہاں جائیں؟


ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ (فائل فوٹو)

ایک ماہ قبل 38 سالہ صہیب فیصل اپنے دفتر کے کاموں میں مصروف تھے جب ان کے گھر سے فون آیا کہ ان کی والدہ کی طبعیت ناساز ہے۔

صہیب فیصل تیزی سے گھر پہنچے اور اپنی والدہ کو لے کر پشاور کے سب سے بڑے اسپتال لیڈی ریڈنگ پہنچ گئے۔ ڈاکٹرز نے ان کی والدہ کا ابتدائی معائنہ کیا اوراسپتال میں داخل کر لیا۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی والدہ کو سانس لینے میں تکلیف ہورہی ہے جس کی اصل وجہ ان کا پتا ہے جس کا آپریشن ضروری ہے۔

لیکن آپریشن کے دن لیڈی ریڈنگ اسپتال سمیت صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث ان کی سرجری نہیں ہو سکی۔ انہیں اس دوران درد کش ادویات دی جارہی تھیں۔ ہڑتال کے باعث ان کی والدہ کو پانچ دن بعد سرجری کے بغیر ہی گھر بھیج دیا گیا۔

اکتوبر میں صہيب اپنی 50 سالہ والدہ کو چار دفعہ اسپتال لے گئے ليکن ان کے بقول سوائے درد کش ادویات کے انہیں کوئی طبی سہولت نہیں دی گئی۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ اب تک وہ بازار سے 20 ہزار کی دوائيں بھی خريد چکے ہيں۔ لیکن نجی اسپتالوں میں والدہ کے آپریشن کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

ايک اندازے کے مطابق خيبر پختونخوا کے سرکاری اسپتالوں ميں گرينڈ ہيلتھ الائنس کی ايک ماہ سے جاری ہڑتال اور احتجاج کےباعث تين لاکھ سے زائد مريض معائنے سے محروم جب کہ آپريشن کے منتظر تين ہزار سے زائد مريض متاثر ہوئے۔

احتجاج کے باعث ليڈی ريڈنگ، خيبر ٹيچنگ اور حيات آباد ميڈيکل کمپلکس ميں مريضوں کی تعداد ميں 80 فيصد کمی ديکھی گئی۔ ہڑتال کے باعث نجی کلینکس اور اسپتالوں میں رش دیکھا جا رہا ہے جب کہ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ نجی لیبارٹریوں سے مہنگے ٹیسٹ کرانے پر بھی مجبور ہین۔

ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث اسپتال سنسان ہیں۔
ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث اسپتال سنسان ہیں۔

ہڑتال کی وجہ کیا ہے؟

خیبرپختونخوا حکومت نے شعبہ صحت میں اصلاحات کے لیے ایک ماہ قبل اسمبلی میں ریجنل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز بل پیش کیا۔ جس پر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تنظیم گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اسے مسترد کرتے ہوئے ہڑتال کر دی جو تاحال جاری ہے۔ اس ہڑتال میں نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف سمیت تکنیکی عملہ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹرز کو گلہ ہے کہ حکومت اس نئے قانون سے متعلق ان کے تحفظات دور کرنے سے گریزاں ہے۔ بلکہ ہڑتالی ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

گرينڈ ہيلتھ الائنس کے چيئرمين ڈاکٹر عالمگير يوسف زئی کہتے ہیں کہ وزیر اعلٰی محمود خان نے مئی میں انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ قانون سازی سے قبل ان سے مشاورت کی جائے گی۔ لیکن حکومت نے اچانک 23 ستمبر کو یہ بل اسمبلی میں پیش کیا اور 27 ستمبر کو اسے منظور کرا لیا گیا۔

ڈاکٹر عالمگير کا کہنا تھا کہ وہ حکومتی رویے کی وجہ سے احتجاج کرنے پر مجبور ہيں۔ حکومت بات چيت پر يقين ہی نہیں رکھتی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ شعبہ طب میں آنے کی خواہشمند آنے والی نسلوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ڈاکٹر عالمگیر کہتے ہیں کہ اس بل کے تحت اسپتالوں کی انتظامیہ نجی شعبے کے حوالے کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پرائیویٹ انتظامیہ کس طرح کوئی حکومتی ادارہ چلا سکتی ہے؟

'سرکاری اسپتالوں میں علاج مہنگا ہو گا'

ڈاکٹر عالمگیر کہتے ہیں کہ نجی شعبہ سرکاری اسپتالوں کا انتظام سنبھالے گا تو وہ اپنی من مانی بھی کرے گا۔ ان کے بقول جو سی ٹی سکین اس وقت 1300 روپے میں ہوتا ہے وہ 4000 میں ہونے لگے گا۔ اسی طرح چیسٹ ایکسرے جو 80 روپے میں ہوتا ہے وہ 300 روپے میں ہو گا۔

ڈاکٹر عالمگیر کے مطابق اس بل کے باعث نہ صرف سرکاری اسپتال پرائیویٹ ہونے جا رہے ہیں بلکہ شعبہ صحت میں آئندہ مستقل ملازمت پر بھرتی بھی نہیں ہو گی۔

ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا کہنا ہے کہ حکومت ان سے مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔
ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا کہنا ہے کہ حکومت ان سے مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔

حکومت کا موقف

خیبرپختونخوا کے وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ کا کہنا ہے کہ تمام وہ لوگ جو سرکاری خزانے سے تنخواہ لیتے ہیں اور ڈیوٹی نہیں کرتے ان کے خلاف ایکشن ضرور ہو گا۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال بے مقصد ہے۔ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر انہیں وفاقی حکومت کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کے معاون برائے شعبہ صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹرز کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ان اصلاحات کے بغیر عوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنا مشکل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG