رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف 'پمز اسپتال' سے واپس اڈیالہ جیل منتقل


'پمز' کے اس وارڈ کے باہر پولیس اہلکار تعینات ہیں جہاں نواز شریف زیرِ علاج تھے

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ''نواز شریف کی حالت ابھی بھی مستحکم نہیں اور ان کے مختلف ٹیسٹوں میں نتائج مختلف آرہے ہیں''۔ سابق وزیرِ اعظم کو 29 جولائی کو طبیعت بگڑنے کے باعث راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے 'پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز' ہسپتال (پمز) منتقل کیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کے اصرار پر انہیں پمز اسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا یے۔

نواز شریف کی جانب سے فوری اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے مطالبے کے بعد، انہیں سخت سیکیورٹی میں جیل منتقل کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ نواز شریف مزید کچھ روز اسپتال میں قیام کریں۔ تاہم، سابق وزیر اعظم کا اصرار تھا کہ انہیں جیل منتقل کیا جائے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی حالت ابھی بھی مستحکم نہیں اور ان کے مختلف ٹیسٹوں میں نتائج مختلف آرہے ہیں۔

سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف کو پمز ہسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کیا کر دیا گیا۔

انھیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا فیصلہ ڈاکٹروں کی رپورٹ دیکھ کر کیا گیا۔

نواز شریف کے جاتے ہی پمز ہسپتال سے پولیس کی بھاری نفری کو ہٹا لیا گیا ہے۔ اتوار سے پمز میں تعینات پولیس افسران اور اہلکار بھی چلے گئے۔

گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں زیرِ علاج اپنے بھائی نواز شریف سے ملاقات کی۔ شہباز شریف 'کارڈیک سینٹر' کے عقبی دروازے سے ہسپتال کے اندر داخل ہوئے، ان کی آمد کے وقت عقبی راستہ کی لائٹیں بند کر دی گئی تھیں۔

ذرائع کے مطابق، دونوں بھائیوں میں ملاقات 15 منٹ تک جاری رہی۔ شہباز شریف نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بھی بات کی۔ ملاقات کے بعد شہباز شریف خاموشی سے واپس چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے ساتھ دو لوگ اور بھی تھے جن کو اوپر نہیں جانے دیا گیا۔

جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کو طبعیت مزید بگڑنے کے باعث اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اسلام آباد انتظامیہ نے پمز میں ان کے پرائیویٹ وارڈ کو سب جیل قرار دیا تھا۔

سابق وزیر اعظم کی صحت کے حوالے سے اطلاعات پر انہیں بیرون ملک منتقل کرنے کے بارے میں افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ لیکن، یہ سب صرف افواہیں ثابت ہوئیں اور نواز شریف کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

نواز شریف کے بائیں بازو اور سینے میں تکلیف کے باعث گزشتہ ہفتے ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا تھا اور انہیں فوری طور پر جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ابتدائی طور پر پمز ہسپتال کے ترجمان وسیم خواجہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو کارڈک سینٹر منتقل کیا گیا ہے اور ان کی حالت ٹھیک ہے۔

آمدنی سے زائد اثاثے بنانے پر مجرم ٹھہرائے جانے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو احتساب عدالت نے 10 سال مریم نواز کو 7 سات سال جبکہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال کی سزا سنائی تھی۔

مریم نواز اور انکے شوہر کیپٹن صفدر دونوں اس وقت اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG