رسائی کے لنکس

ڈبلو ایچ اے کے ماہرین ملک میں نہ صرف ریے بیز کے علاج کی ٹریننگ دیں گے بلکہ وہ  آوارہ کتوں کی نس بندی کے ذریعہ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد  میں کمی کے لئے بھی ٹریننگ دیں گے۔

پاکستان میں اوارہ کتوں کے کاٹنے سے پھیلنے والی بیماری رے بیز کی روک تھام اور ان کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں کنٹرول کے لئے کتوں کی نس بندی مہم اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلو ایچ او کے اشتراک شروع کی جا رہی ہے جس کے لئے جنوبی افریقہ سے ماہرین 20 اکتوبر کو کراچی پہنچ جائیں گے۔

کراچی میں واقع فلاحی طبی ادارے انڈس اسپتال میں شعبہ وبائی امراض کی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے وائس اف امریکہ کے پروگرام ’’ سامعین کے خطوط ‘‘ میں میزبان مدثر منظر کو بتایا کہ پاکستان میں اوارہ کتوں کی بہتات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر انھوں نے کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں کتا کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے کی روک تھام کی مہم شروع کی ہے تاہم ملک میں اس کے نتیجے میں پھیلنے والی جان لیوا مرض ریے بیز کے علاج کے لئے تجربہ کار ڈاکٹرز کی کمی ہے۔

ڈبلو ایچ اے کے ماہرین ملک میں نہ صرف ریے بیز کے علاج کی ٹریننگ دیں گے بلکہ وہ آوارہ کتوں کی نس بندی کے ذریعہ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد میں کمی کے لئے بھی تربیت دیں گے۔

ڈاکٹر نسیم کے مطابق کتا کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے مسئلے کو بین الااقوامی سطح پر اٹھانے کا مقصد پاکستان میں اس مسئلے کے حل کی راہ تلاش کرنا تھا اور اب عالمی ادارہ صحت کی مدد سے ملک بھر میں 20 اکتوبر سے باضابطہ مہم شروع کی جارہی ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ کتا کاٹنے کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے ہونے والے زخم تو جلد بھر جاتے ہیں لیکن دو سے تین ماہ میں رے بیز کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں جسے بائیٹو فوبیا کہا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد مرض کا اعلاج ممکن نہیں رہتا۔

کتا کاٹنے کے موضوع پر ڈاکٹر صاحبہ سے ہونے والی گفتگو کی مزید تفیصلات جاننے کے لئے درج ذیل لنک کلک کیجئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG