رسائی کے لنکس

امریکہ اور جنوبی کوریا کے صدور کا ٹیلی فون پر رابطہ


صدر ڈونلڈ ٹرمپ (دائیں) اور جنوبی کوریا کے صدر مون جئی (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے نئے صدر مون جا ان نے بدھ کو فون پر گفتگو کی جس میں شمالی کوریا کی طرف سے جوہری پروگرام کو ترقی دینے کے معاملے سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

جنوبی کوریا کے عہدیداروں نے کہا کہ مون کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے ایک دن ٹرمپ نے فون کال میں پیانگ یانگ کے فوجی عزائم کو پیچیدہ قرار دیا تاہم کہا کہ یہ ایسے (معاملات) ہیں جو حل ہو سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے صدر کے دفتر کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے تعلقات شمالی کوریا کی دھمکیوں کے خلاف ایک مضبوط دفاع ہیں اور انہوں نے مون کو واشنگٹن کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

جنوبی کوریا کے نئے صدر نے ٹرمپ کے مقابلے میں شمالی کوریا کے ساتھ زیادہ مصالحانہ طرز عمل اختیار کیا ہے جنہوں نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق انتباہ کرنے کے لیے طیارہ بردار بحری جہاز جزیرہ ںما کوریا بھیجا۔

ٹرمپ شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ ان کے خلاف مزید تعزیرات عائد کرنا اور اسے تنہا کرنا چاہتے ہیں۔

مون کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جنوبی کوریا میں قدامت پسند سخت گیر حکومتوں کا خاتمہ ہو گیا جن کا محور گزشتہ سالوں سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی ترقی کو روکنے کے لیے اس پر دباؤ میں اضافہ کرنے پر رہا۔

مون نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ "اگر ضرورت پڑی تو میں براہ راست واشنگٹن جاؤں گا۔ میں بیجنگ اور ٹوکیو بھی جاؤں گا۔ اور اگر شرائط مان لی جاتی ہیں تو میں پیانگ یانگ جاؤں گا۔ جزیرہ نما کوریا میں امن و استحکام لانے کے لیے میں ہر وہ کام کروں گا جو میں کر سکتا ہوں۔"

جنوبی کوریا کے نئے صدر امریکہ کے میزائل دفاعی نظام تھاڈ (ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوٹ ایریا ڈیفنس) کی تنصیب سے گریزاں ہیں اور اس کے لیے صدر ٹرمپ نے حال ہی میں جنوبی کوریا سے اضافی دفاع اخراجات کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کا کہا ہے۔

چین بھی اس جدید میزائل دفاعی پروگرام کی یہ کہہ کر مخالفت کرتا ہے کہ یہ خطے کے سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور وہ جنوبی کوریا کے سیاحوں اور برآمدات پر پابندی عائد کرنے کی تنبیہ کر چکا ہے۔

مون نے امریکہ کے ساتھ پالیسی کے معاملے پر اختلاف کے تاثر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ امریکہ کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ واشنگٹن اور سیئول بالآخر ایک ہی بات کے خواہشمند ہیں جو کہ جوہری خطرے کو کم کرنے کے لیے شمالی کوریا کو بات چیت کی میز پر لانا ہے۔

شمالی کوریا نے مون کے صدر بننے پر تاحال کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG