رسائی کے لنکس

logo-print

'صدارتی انتخاب میں نے جیتا ہے،' بائیڈن کی فتح پر ٹرمپ کا ردِ عمل


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے بیشتر ذرائع ابلاغ کی جانب سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی کامیابی کے اعلان کے بعد ایک بار پھر اپنی فتح کا دعویٰ کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی دوپہر ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ بہت بڑے مارجن کے ساتھ صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔

تاہم ٹوئٹر نے ایک بار پھر صدر کی اس ٹوئٹ پر انتباہی پیغام لگا دیا ہے کہ جس وقت یہ ٹوئٹ کیا گیا اس وقت تک حکام نے انتخابات کے نتائج کا اعلان نہیں کیا تھا۔

امریکہ کے بیشتر ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی انتخاب کے اب تک سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر فیصلہ کن برتری حاصل ہو چکی ہے۔

صدر منتخب ہونے کے لیے جو بائیڈن کو 538 ارکان کے الیکٹورل کالج میں سے 270 کی حمایت درکار تھی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق جو بائیڈن نے ریاست پینسلوینیا میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ پینسلوینیا کے 20 الیکٹورل ووٹ ہیں جو تمام کے تمام جو بائیڈن کو ملنے کے بعد ان کے ووٹوں کی تعداد 273 ہوگئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اب تک 214 الیکٹورل ووٹ حاصل کرچکے ہیں۔

پینسلوینیا کے نتائج کے اعلان کے بعد امریکہ کی 45 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ پانچ ریاستوں – جارجیا، نارتھ کیرولائنا، ایریزونا، نیواڈا اور الاسکا – میں اب بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

جو بائیڈن کی فتح کا اعلان غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور حتمی سرکاری نتائج کے اجرا میں اب بھی کئی ہفتے لگیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور ری پبلکن قیادت پہلے ہی کئی ریاستوں کے نتائج کو عدالتوں میں چیلنج کر چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ منگل کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد سے ٹوئٹر پر اور اپنے خطابات میں مسلسل انتخابات میں اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں اور ڈیموکریٹس پر دھاندلی کے ذریعے انتخابی نتائج تبدیل کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔

جمعے کو صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے منتظمین نے بھی صدارتی انتخاب کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات ابھی ختم نہیں ہوئے۔

انتخابی مہم کے منتطمین نے جمعے کو جاری بیان میں کہا تھا کہ جن ریاستوں میں ووٹوں کا فرق بہت کم ہے۔ وہاں دوبارہ گنتی اور عدالتی کارروائی کے بعد بالآخر صدر ٹرمپ ہی جیتیں گے۔

صدر ٹرمپ نے بھی انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انتخابی نتائج کے خلاف اپنی مزاحمت کبھی ترک نہیں کریں گے۔

جمعے کو جاری ایک بیان میں صدر نے کہا تھا کہ ان کا مؤقف اور جدوجہد امریکہ کے پورے انتخابی نظام کی ساکھ بچانے کے لیے ہے جس سے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں صدر کا کہنا تھا کہ الیکشن کی رات تک انہیں تمام ریاستوں میں برتری حاصل تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حیرت انگیز طور پر ان کی برتری غائب ہو گئی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جیسے ہی قانونی کارروائی آگے بڑھے گی ان کی برتری واپس لوٹ آئے گی۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم اور ری پبلکن پارٹی نے کئی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی روکنے کے لیے عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے جب کہ کئی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کے مطابق صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے وکلا اور ری پبلکن پارٹی کے عہدیدار نیواڈا، پینسلوینیا، مشی گن اور جارجیا کی مختلف عدالتوں میں ووٹوں کی گنتی اور انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق لگ بھگ ایک درجن سے زائد مقدمات دائر کر چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے ریاست وسکونسن میں بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے جہاں جو بائیڈن نے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق صرف 20 ہزار ووٹوں سے فتح حاصل کی ہے۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے وکلا اور ری پبلکن رہنماؤں نے ریاست پینسلوینیا میں ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگی کی شکایت کرتے ہوئے ان ووٹوں کے حوالے سے بھی عدالتوں سے رجوع کیا ہے۔

جو بائیڈن کی انتخابی مہم کے منتظمین نے اپنے حامیوں سے زیادہ سے زیادہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی ہوتی گئی، جو بائیڈن کے ووٹوں میں اضافہ ہو تا چلا گیا ہے۔

کرونا کی وبا کے باعث امریکہ میں اس سال لگ بھگ 10 کروڑ رائے دہندگان نے 'ارلی ووٹنگ' کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تین نومبر کو انتخابات کے دن سے پہلے ہی اپنا ووٹ کاسٹ کیا تھا۔

ان میں سے دو تہائی سے زیادہ ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے تھے جن کی تصدیق اور گنتی کا عمل طویل ہونے کی وجہ سے نتائج میں تاخیر کا اندیشہ پہلے ہی سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی مخالفت کرتے رہے تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے سے انتخابات میں دھاندلی ہوسکتی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے اس الزام کے حق میں ثبوت پیش نہیں کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG