رسائی کے لنکس

logo-print

تارکین وطن کا بحران، یورپی یونین کے رہنماؤں کا اجلاس


28 ملکوں پر مشتمل یورپی یونین کو اس حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اپنے اختلاف ختم کر کے برسلز میں ہونے والے دو روزہ مذکرات کے دوران ایک ایسے منصوبے کو سامنے لائیں جس سے تارکین وطن کے معاملے سے نمٹا جاسکے۔

یورپی ملکوں کے رہنما جمعرات کو ایک اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں جس میں تارکین وطن کے معاملے سے نمٹنے کے لیے ترکی کے ساتھ حتمی معاہدہ طے کرنے کے معاملے پر بات چیت ہو گی۔

تاہم یہ معاملہ سیاسی قانونی اور دیگر مشکلا ت کی وجہ سے اتنا آسان نہیں ہے اور اسی بنا پر اس بارے پیش رفت غیر یقینی ہے۔

28 ملکوں پر مشتمل یورپی یونین کو اس حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اپنے اختلاف ختم کر کے برسلز میں ہونے والے دو روزہ مذکرات کے دوران ایک ایسے منصوبے کو سامنے لائیں جس سے تارکین وطن کے معاملے سے نمٹا جاسکے۔ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن یونان میں موجود ہیں اور آنے والے مہینوں میں مزید ہزاروں تارکین وطن کے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔

تاہم کسی حتمی معاہدے کے بظاہر امکانات کم نظر آرہے ہیں۔ لندن میں قائم یورپی اصلاحات سے متعلق ادارے سے وابستہ تحقیق کار مارتیرا مارتینز کا کہنا ہے کہ "میرے خیال میں رکن ممالک کے درمیان اختلاف بڑھ رہے ہیں اور اتنے کم وقت میں ایک معاہدے کے جواز اور اسے طے کرنا بہت مشکل ہو گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر اس طرح کا کوئی معاہدہ طے بھی ہو جاتا ہے پھر بھی اس پر عمل درآمد کی راہ میں عملی مشکلات حائل ہوگی"۔

قبل ازیں رواں ماہ ترکی کے ساتھ طے پانے والے ایک مجوزہ معاہدے کے تحت انقرہ دستاویزات کے بغیر ترکی سے یونان جانے والے تمام تارکین وطن کو واپس لے لے گا اور اس طرح واپس آنے والے ہر شامی شہری کے بدلے میں یورپی یونین ترکی سے ایک شامی تارکین وطن کو قبول کرے گی۔

یہ معاملہ طے ہو جانے کے بعد یورپی یونین ترکی کے ساتھ بڑے عرصے سے تعطل کے شکار ترکی کے لیے یورپی یونین کا رکن بننے کے عمل کو تیز کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ انقرہ کو تارکین وطن کے لیے امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ترک شہریوں کے لیے ویزا کے بغیر (یورپی یونین کے ملکوں) میں سفر کی سہولت کے معاملے پر بھی بات ہو سکتی ہے تاہم اس کے لیے ترکی کو متعدد شرائط پر عمل کرنا ہو گا۔

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے مقدونیہ اور بلقان ریاستوں کی طرف سے اپنی سرحدیں بند کرنے کے بعد تقریباً 43,000 تارکین وطن نہایت مخدوش حالا ت میں یونان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناگزیں کے مطابق گزشتہ سال تقریباً دس لاکھ تارکین وطن یورپ پہنچے اور رواں سال یہاں پہنچے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے اور جیسے جیسے موسم گرم ہو گا تو ان کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد دوسری عالمی جنگ کے بعد تارکین وطن کا سب سے بڑا بحران ہے۔

XS
SM
MD
LG