رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: حیدرآباد دکن میں بم دھماکے، 11 افراد ہلاک


بھارتی ذرائع ابلاغ ان دھماکوں اور کشمیری رہنما افضل گورو کی ہلاکت کے درمیان کڑیاں تلاش کر رہے ہیں۔

بھارت کے شہر حیدرآباد میں ایک گنجان کاروباری علاقے میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق بھارتی وزیرِ داخلہ سشیل کمار شنڈے نے دارالحکومت نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دھماکوں میں 11 افراد کی ہلاکت اور 50 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں دھماکے 150 میٹر کے اندر ہوئے ہیں جن میں سے ایک میں آٹھ اور دوسرے میں تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

لیکن مقامی ذرائع ابلاغ اور ٹی وی چینلز کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 15 تک ہے۔

عینی شاہدین نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ دونوں دھماکے جمعرات کو سورج غروب ہونے کے فوری بعد 'دل سکھ نگر' نامی علاقے ہوئے۔ بعض اطلاعات کے مطابق علاقے میں تین دھماکے سنے گئے ہیں۔

ٹی وی چینلز پر چلنے والی ویڈیوزمیں دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر ملبہ ااور لاشیں پڑی ہوئی دکھائی گئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں بم سائیکلوں پر نصب کیے گئے تھے۔

دھماکے ایک گنجان کاروباری علاقے میں ہوئے ہیں جہاں کئی سنیما ہال، دکانیں، ریستوران اور سبزی منڈی بھی واقع ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ ان دھماکوں کو کشمیری رہنما افضل گورو کی ہلاکت سے جوڑ رہے ہیں۔ گورو کو لگ بھگ دو ہفتے قبل نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دیدی گئی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ وہ بھارتی پارلیمان پر 2001ء میں ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔

گورو کی پھانسی کے خلاف بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جب کہ پوری وادی میں کئی روز تک کرفیو نافذ رہا تھا۔
XS
SM
MD
LG