رسائی کے لنکس

logo-print

برسلز کے ہوائی اڈے اور میٹرو اسٹیشن پر دھماکے، 31 افراد ہلاک


ہوائی اڈے پر ہونے والے دو دھماکوں کے کچھ دیر بعد برسلز کے ایک میٹرو اسٹیشن پر بھی دھماکہ ہوا جس میں شہر کے میئر کے مطابق کم از کم 20 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کے ہوائی اڈے اور میٹرو اسٹیشن پر منگل کی صبح ہونے والے یکے بعد دیگرے تین دھماکوں میں کم ازکم 31 افراد ہلاک اور لگ بھگ 200 زخمی ہوگئے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ایک ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے خود کش جنگجووں نے برسلز کے ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر خود کو دھماکے سے اڑایا ہے جس کے بعد ہوائی اڈے پر موجود دیگر جنگجووں نے وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ بھی کی ہے۔

بیلجیئن حکام کے مطابق دو دھماکے صبح آٹھ بجے کے قریب برسلز کے مرکزی ہوائی اڈے کے روانگی والے حصے میں ہوئے جن میں 11 افراد ہلاک ہوئے اور 90 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکوں سے قبل گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی گئیں جن سے ہوائی اڈے پر بھگدڑ مچ گئی۔

دھماکے کے بعد وہاں موجود عینی شاہدین کی بنائی گئی موبائل ویڈیوز میں ہوائی اڈے کے لاؤنج کی چھت کے ٹکڑے گرے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں جب کہ خوف زدہ مسافر اور شہری ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر بھاگ رہے ہیں۔

ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکوں کے کچھ دیر بعد برسلز کے ایک میٹرو اسٹیشن پر بھی دھماکہ ہوا جس میں شہر کے میئر کے مطابق کم از کم 20 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکہ مائیل بیک نامی سب اسٹیشن پر ہوا جو یورپی یونین کے صدر دفتر کے نزدیک واقع ہے۔ دھماکوں کے بعد برسلز پولیس نے شہریوں سے دفاتر اور گھروں سے باہر نہ نکلنے کی اپیل کی۔

ہوائی اڈے پر دھماکوں کے بعد اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر برسلز میں تمام سب ویز، ٹرام اور ٹرینوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے بدھ کو بھی ایئر پورٹ تمام پروازوں کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے ہوائی اڈے کے نزدیک سے ایک بم پھٹنے سے قبل ہی اپنی تحویل میں لے کر اسے ناکارہ بنادیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکوں میں سے ایک خودکش حملہ تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہوائی اڈے پر دھماکے سے قبل جائے واقعہ پر کسی شخص نے عربی میں نعرے بھی لگائے تھے جب کہ جائے واقعہ سے کلاشنکوف کی برآمدگی کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔

دھماکوں کے بعد یورپ بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے اور براعظم کے تمام بڑے شہروں میں سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے تعینات کردیے گئے ہیں۔

پیر کو ہونے والے ان دھماکوں سے چار روز قبل بیلجیئن پولیس نے پیرس حملوں کے مرکزی ملزم صلاح عبدالسلام کو برسلز سے گرفتار کیا تھا۔

حکام کے مطابق 26 سالہ صلاح عبدالسلام کو ایک پولیس مقابلے کے بعد زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں کے اس مرکزی ملزم کی گرفتاری کو یورپی حکام اہم پیش رفت قرار دے رہے تھے جس سے دورانِ حراست تفتیش کی جارہی ہے۔

صلاح عبدالسلام کی گرفتاری کے بعد بیلجیئن حکام نے پیرس حملوں میں ملوث ایک اور مشتبہ ملزم کی شناخت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

مشتبہ شخص کا نام نجیم لاخرولی بتایا جاتا ہے اور اُس نے گزشتہ سال ستمبر میں پیرس حملوں کے مرکزی ملزم صالح عبدالسلام کے ہمراہ آسٹریا سے ہنگری کی سرحد تک اکٹھے سفر کیا تھا۔بیلجئن حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ لاخرولی نے 2013ء میں شام کا سفر بھی کیا تھا۔

فرانسیسی حکام نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ پیرس حملوں میں ملوث ملزمان واقعے کے بعد بیلجئم فرار ہوگئے تھےجس کے بعد برسلز میں کئی روز تک سکیورٹی انتہائی سخت رہی تھی۔

پیرس کے بیک وقت کئی مقامات پر ہونے والے ان دہشت گرد حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

پیر کو ہونے والے ان دھماکوں سے چار روز قبل بیلجیئن پولیس نے پیرس حملوں کے مرکزی ملزم صلاح عبدالسلام کو برسلز سے گرفتار کیا تھا۔

حکام کے مطابق 26 سالہ صلاح عبدالسلام کو ایک پولیس مقابلے کے بعد زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں کے اس مرکزی ملزم کی گرفتاری کو یورپی حکام اہم پیش رفت قرار دے رہے تھے جس سے دورانِ حراست تفتیش کی جارہی ہے۔

صلاح عبدالسلام کی گرفتاری کے بعد بیلجیئن حکام نے پیرس حملوں میں ملوث ایک اور مشتبہ ملزم کی شناخت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

مشتبہ شخص کا نام نجیم لاخرولی بتایا جاتا ہے اور اُس نے گزشتہ سال ستمبر میں پیرس حملوں کے مرکزی ملزم صالح عبدالسلام کے ہمراہ آسٹریا سے ہنگری کی سرحد تک اکٹھے سفر کیا تھا۔ بیلجیئن حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ لاخرولی نے 2013ء میں شام کا سفر بھی کیا تھا۔

فرانسیسی حکام نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ پیرس حملوں میں ملوث ملزمان واقعے کے بعد بیلجیئم فرار ہوگئے تھےجس کے بعد برسلز میں کئی روز تک سکیورٹی انتہائی سخت رہی تھی۔

پیرس کے بیک وقت کئی مقامات پر ہونے والے ان دہشت گرد حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

XS
SM
MD
LG