رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں طوفانی آندھی سے 97 افراد ہلاک


راجھستان: آندھی کے باعث کرنے والا بجلی کا کھمبا

اترپردیش کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ آندھی سے سب زیادہ متاثر ضلع آگرہ ہوا ہے جہاں مختلف حادثات میں 36 افراد کی جانیں گئی ہیں۔

بھارت کی شمالی ریاستوں میں آنے والی شدید آندھی اور طوفان کے باعث ہونے والے حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 97 ہو گئی ہے اور 205 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب چلنے والی آندھی سے سب سے زیادہ نقصان اترپردیش اور راجھستان کی ریاستوں میں ہوا ہے جہاں بیشتر ہلاکتیں درخت، عمارتیں اور بجلی کے کھمبے گرنے سے ہوئیں۔

حکام کے مطابق اب تک اتر پردیش میں 64 اور راجھستان میں 33 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اترپردیش کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ آندھی سے سب زیادہ متاثر ضلع آگرہ ہوا ہے جہاں مختلف حادثات میں 36 افراد کی جانیں گئی ہیں۔

معروف سیاحتی مقام تاج محل بھی آگرہ میں ہی واقع ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ آندھی سے اس تاریخی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ آنے والے طوفان کے باعث تاج محل کے ایک بیرونی دروازے کا مینار منہدم ہوگیا تھا۔اس طوفان سے اترپردیش میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اتر پردیش کے ریلیف کمشنر ٹی پی گپتا نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ آندھی اور طوفان سے ریاست کے 75 میں سے 40 اضلاع میں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ طوفان سے سیکڑوں مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اپنے تاریخی مقامات اور رنگ برنگی ثقافت کے باعث غیر ملکی سیاحوں میں بطور خاص مقبول ریاست راجھستان کے تین اضلاع – الور، دھول پور اور بھرت پور - بھی آندھی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

راجھستان میں قدرتی آفات سے نبٹنے کے سرکاری محکمے کے سیکریٹری ہیمنت گیرا نے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ضلع بھرت پور میں بجلی کے ایک ہزار سے زائد کھمبے گرنے کے باعث ضلعے کے بیشتر مقامات پر بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کی فراہمی بحال کرنے میں کم از کم دو دن لگ سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG