رسائی کے لنکس

logo-print

محبت کی نشانی طوفان کا نشانہ بن گئی


شمالی بھارت میں گزشتہ رات کے طوفانی جھکڑوں نے آگرہ میں قائم دنیا کی عجائبات میں شمار ہونے والے تاج محل کو بھی اپنا نشانہ بنا ڈالا اور اس کے دو مینار ے گر گئے۔

یہ عمارت دنیا بھر میں محبت کی ایک علامت کے طور پر اپنی پہچان رکھتی ہے۔

طوفان سے سنگ مرمر سے تعمیر کی جانے والی عمارت کے دو دروازوں کے دو میناروں کو نقصان پہنچا تاہم تاج محل کے چاروں بڑے مینار جو عمارت کے موتیوں کی طرح چمکتے سفید گنبد کے دربانوں کی طرح استادہ دکھائی دیتے ہیں، محفوظ رہے۔

حکام کے مطابق طوفانی ہواؤں کی رفتار 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تھی۔

منہدم ہونے والا ایک مینار شاہی دروازے پر واقع تھا۔ اسی دروازے سے سیاح اکثر و بیشتر تاج محل کی پہلی جھلک کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ منہدم ہونے والا دوسرا مینار جنوبی دروازے پر تھا۔

محکمہ آثار قدیمہ کے کنزرویٹیو اسسٹنٹ انکت نام دیو کے مطابق ان دونوں میناروں کے علاوہ” ریوتی کا بڑا“کی ایک دیوار کو بھی اد پر ایک درخت گر جانے سے نقصان پہنچا۔

خوش قسمتی سے تاج محل کی اصل عمارت کسی بھی طرح کے نقصان سے محفوظ رہی۔

نام دیو نے کہا ہے کہ ہم ابھی نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جس کے بعد مرمت کا کام شروع کیا جائے گا۔ تاج محل کے علاوہ فتح پور سیکری کے تحفظ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہم محکمہ آثار قدیمہ کی نگرانی میں آنے والی دیگر 195 عمارتوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

اس سے قبل 2015 میں بھی تاج محل کے داخلی دروازے شاہی گیٹ پر نصب تاریخی فانوس گر کر ٹوٹ گیا تھا۔

تاج محل مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 1653 میں اپنی بیوی ممتاز محل کے لیے بنوایا تھا۔

یہ عمارت سفید سنگ مر مر سے بنی ہوئی ہے اور اسے یونیسکو نے 1983 میں عالمی تاریخی ورثہ قرار دیا تھا۔ حالیہ برسوں میں فضائی آلودگی کے سبب چمکتے ہوئے سنگ مرمر کا حسن متاثر ہو رہا ہے۔

حکومت نے اس کے تحفظ کے لیے قریبی علاقوں میں آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو ممنوع قرار دیا ہے اور عمارت کی مرمت کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھی مقرر کی ہے۔

تاج محل کے بارے میں اکثر و بیشتر تنازعات بھی اٹھتے رہتے ہیں۔ احیا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مندر ہے۔

اتر پردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ نے اسے اپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے وقف بورڈ کو حکم دیا کہ تاج محل اگر اس کی ملکیت ہے تو وہ مغل شہنشاہ شاہجہاں کی دستخط شدہ دستاویز عدالت میں پیش کرے۔ سپریم کورٹ نے وقف بورڈ کو ملکیتی دستاویز پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔

عدالت عظمی نے محکمہ آثار قدیمہ کی درخواست پر منگل کی سماعت کے دوران کہا کہ مغلیہ عہد کے خاتمہ کے ساتھ ہی تاج محل اور دیگر تاریخی عمارتیں انگریزوں کو منتقل ہوگئی تھیں۔ عدالت عظمیٰ نے وقف بورڈ سے کہا کہ اس قسم کے معاملات لا کر سپریم کورٹ کا وقت ضائع نہ کیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG