رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے حملے، شامی فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

شام کے وسطی علاقے میں سرکاری فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں پر داعش کے حملوں میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام میں تشدد کے اعداد و شمار جمع کرنے والی برطانوی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق داعش کے جنگجووں نے یہ حملے گزشتہ دو روز کے دوران کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایک حملہ تاریخی شہر پلمیرا کے شمال میں واقع الکوم کے علاقے میں کیا گیا جس میں شامی فوج اور اس کی تحادی ملیشیا کے 15 اہلکار ہلاک ہوئے۔

داعش کے خبر رساں ادارے 'عمق' نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کو شدت پسند تنظیم کے جنگجووں نے السخنا کے علاقے میں بھی گھات لگا کر حملہ کیا جس میں شامی فوج کے 20 اہلکار مارے گئے۔

جس علاقے میں حملہ کیا گیا وہ پلمیرا اور دیر الزور کے درمیان واقع ہے ۔ داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں کئی شامی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے تاحال داعش کے حملوں اور اس میں اپنے فوجی اور اتحادی ملیشیاؤں کے اہلکاروں کی ہلاکت کے دعووں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

لیکن سیرین آبزرویٹری نے کہا ہے کہ یہ حملے شام میں اپنے آخری گڑھ بغوز سے پسپا ہونے کے بعد داعش کی سب سے بڑی کارروائیاں ہیں۔

ان حملوں سے عالمی برادری کے ان خدشات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ داعش بدستور ایک خطرہ ہے جس سے نبٹنے کے لیے کوششیں جاری رہنا چاہئیں۔

البغوز عراق کی سرحد کے نزدیک واقع وہ آخری گاؤں تھا جو داعش کے قبضے میں باقی رہ گیا تھا۔ لیکن گزشتہ ماہ امریکہ کی حمایت یافتہ شامی باغیوں کے اتحاد 'سیرین ڈیموکریٹک فورسز' نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فضائی معاونت سے یہ گاؤں بھی آزاد کرالیا تھا۔

بغوز پر قبضے کے بعد شام اور عراق کے تمام علاقے داعش کے قبضے سے آزاد ہوگئے تھے جو چند سال قبل تک ایک تہائی شام اور عراق کے وسیع رقبے پر قابض تھی اور وہاں اپنی خود ساختہ خلافت قائم کیے ہوئے تھی۔

لیکن بغوز کی آزادی کے باوجود کئی حلقوں کا خیال ہے کہ داعش بدستور ایک خطرہ ہے اور اپنے محفوظ ٹھکانے ختم ہوجانے کے بعد اب جنگجو مشرقِ وسطیٰ میں خانہ جنگی کا شکار ممالک میں گوریلا طرز کی جنگ شروع کرسکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG