رسائی کے لنکس

logo-print

سوڈان: دارفور میں قبائلی جھڑپیں، 130 افراد ہلاک


سوڈان کے اس وسیع و عریض لیکن بنجر علاقے میں بسنے والے غیر عرب قبائلی افریقیوں نے 2003ء سے خرطوم کی عرب حکومت کے خلاف بغاوت کر رکھی ہے۔

سوڈان کے علاقے جنگ زدہ علاقے دارفور میں دو متحارب قبائل کے درمیان ہونے والی مسلح جھڑپوں میں 130 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ سوڈان کے اس وسیع و عریض لیکن بنجر علاقے میں بسنے والے غیر عرب قبائلی افریقیوں نے 2003ء سے خرطوم کی عرب حکومت کے خلاف بغاوت کر رکھی ہے۔

ان قبائلیوں کا الزام ہے کہ خرطوم حکومت انہیں نظر انداز کر رہی ہے۔ حکومت کے باغی قبائلیوں کی زیادہ تر لڑائی دارفور میں بسنے والے سب سے بڑے عرب قبیلے مصریہ سے رہی ہے جسے سوڈان کی مرکزی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

بین الاقوامی کوششوں کے بعد 2005ء کے بعد خطے میں جاری پرتشدد واقعات میں کچھ کمی آئی تھی لیکن رواں سال کے آغاز سے متحارب قبائل کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی دارفور کے علاقے ام دخان میں 'مصریہ' اور اس کے مخالف قبیلے 'سلامت' کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جمعے کو شروع ہوا تھا۔

دونوں قبائل کے مسلح افراد کے درمیان علاقے میں پیر کو بھی جھڑپ ہوئی جس میں قبائلی عمائدین کے مطابق 134 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پیر کو علی الصباح سے سورج ڈھلنے تک جاری رہنے والی ان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے 108 کا تعلق باغی قبیلے 'سلامت' اور 26 کا حکومت کے حامی 'مصریہ' سے بتایا جارہا ہے۔

علاقے تک رسائی مشکل ہونے کے باعث ہلاکتوں کے ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہوسکی ہے جب کہ تاحال سوڈان کی حکومت نے بھی جھڑپوں کی اطلاعات پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق داررفور میں باغیوں اور سرکاری افواج اور متحارب قبائل کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں علاقے کے تین لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG