رسائی کے لنکس

logo-print

چیف جسٹس نے پاک پتن واقعے کا نوٹس لے لیا


فائل

میاں ثاقب نثار نے ڈی پی او پاکپتن اور خاور مانیکا کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی پنجاب ابوبکر خدا بخش، آر پی او ساہیوال اور ڈی پی او پاک پتن کو نوٹسز جاری کردیے ہیں اور کیس کل سماعت کے لئے مقرر کر دیا ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل اور پاکستان کی خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے مبینہ تنازع کا نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈی پی او پاکپتن اور خاور مانیکا کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی پنجاب ابوبکر خدا بخش، آر پی او ساہیوال اور ڈی پی او پاک پتن کو نوٹسز جاری کردیے ہیں اور کیس جمعے کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

چند روز قبل ڈی پی او پاکپتن کی جانب سے خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے کا معاملے سامنے آیا تھا جس کے بعد آئی جی پنجاب کلیم امام نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو او ایس ڈی بنا دیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق خاور مانیکا کو 23 اگست کو گارڈز سمیت پولیس نے ناکے پر روکا۔ لیکن خاور مانیکا نے گاڑی نہ روکی اور آگے نکل گئے، جس پر پولیس اہلکاروں نے پیچھا کرکے ان کی گاڑی روکی تو پولیس اہلکاروں اور خاور مانیکا کے گارڈز کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔

اس واقعہ کے بعد مبینہ طور پر آرپی او اور ڈی پی او پاکپتن کو لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے طلب کیا اور ڈی پی او کو خاور مانیکا کے ڈیرہ پر جاکر معافی مانگنے کی ہدایت کی لیکن ڈی پی او رضوان گوندل نے معافی مانگنے سے انکار کردیا، جس کے بعد انہیں او ایس ڈی بنادیا گیا تھا۔

اس واقعے کے حوالے سے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اسے صوبائی معاملہ قرار دیا تھا جبکہ وزیر اعظم نے واقعہ کو محکمانہ معاملہ قرار دیتے ہوئے معاملے سے لا تعلق رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پنجاب پولیس نے ڈی پی او کو غلط بیانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کو او ایس ڈی بنانے کے فیصلہ کا دفاع کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG