رسائی کے لنکس

ڈاکٹر عظمی نے بتایا ہو سکتا ہے میں طاہر سے شادی کر لوں


نئی دہلی۔ سہیل انجم

ڈاکٹر عظمیٰ ایک بہت مہذب، تعلیم یافتہ اور ملنسار خاتون ہیں۔ جب انھوں نے یہاں بوتیک کھولا تو ہمسایہ ہونے کی وجہ سے ان سے مراسم بڑھے۔ وہ ہمارے گھر آنے جانے لگیں اور ہمارے اہل خانہ سے ان کے قریبی روابط قائم ہو گئے۔ یہ روابط یہاں تک گہرے ہوئے کہ ہم میاں بیوی عظمیٰ کو اپنی بیٹی ماننے لگے۔ اب سنا ہے کہ وہ اسلام آباد میں واقع بھارتی سفارت خانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ہمیں ان کی بہت فکر ہے اور ہم ایشور سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد صحیح سلامت دہلی لوٹ آئیں“۔ یہ کہنا ہے مشرقی دہلی کے یمنا وہار علاقے میں مقیم 52 سالہ پرمود چودھری کا۔

پرمود چودھری نے وی او اے اردو سے ایک ملاقات میں ڈاکٹر عظمیٰ کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔ عظمیٰ کا بوتیک "پلک" C-8/226 یمنا وہار میں تھا اور پرمود کی رہائش C-8/225 میں ہے۔ پرومود کی دکان عظمی کے بوتیک کے بالمقابل ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ کی پاکستان کے ایک شہری طاہر علی سے ملیشیا میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے پاکستان جا کر ان سے شادی کر لی۔ مگر چند روز کے بعد ہی انھوں نے اسلام آباد میں واقع بھارتی ہائی کمیشن میں جا کر پناہ لے لی۔ اور الزام لگایا کہ ان کی شادی زبردستی ہوئی ہے اور انھیں شادی کے بعد علم ہوا کہ طاہر شادی شدہ ہیں اور ان کے چار بچے بھی ہیں۔

پرمود بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ عظمیٰ کی طاہر سے ملیشیا میں ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ان سے شادی کرنے کے بارے میں بہت زیادہ پرجوش نہیں تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ ”ہاں ملیشیا میں ایک پاکستانی سے ملاقات ہوئی ہے جو ٹیکسی چلاتا ہے اور جو مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے“۔ لیکن عظمیٰ نے اس بارے میں پرمود کے اہل خانہ سے کبھی کسی جوش خروش کا مظاہرہ نہیں کیا۔

ڈاکٹر عظمیٰ کی تقریباً 4 سال کی ایک بیٹی ہے جسے تھیلیسیمیا کا مرض لاحق ہے۔ جسے اکثر علاج اور خون لگوانے کی غرض سے اسپتال لے جانا پڑتا ہے۔ پرمود نے بھی دو ایک بار ان کی بیٹی کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) میں لے جا کر خون لگوایا تھا۔ پرومود کے مطابق "باتوں باتوں میں عظمیٰ کہہ دیا کرتی تھیں کہ اگر کوئی اچھا شخص ملا تو میں اس سے شادی کر لوں گی۔ " اس کے باوجود وہ اپنی بیٹی کے لیے زیادہ فکر مند رہا کرتی تھیں۔ خیال رہے کہ عظمیٰ مطلقہ ہیں۔

ان کا بوتیک سات آٹھ مہینے تک چلا اور خاصا چل پڑا تھا۔ اس دوران بہت سے مقامی افراد خصوصاً خواتین سے ان کے اچھے مراسم بھی ہو گئے تھے۔ ان کی دادی اور چچا وسیم قریب کے دوسرے علاقے چوہان بانگر میں رہتے ہیں۔ وہ پہلے انھی کے ساتھ رہتی تھیں۔ لیکن بعد میں یمنا وہار ہی میں شفٹ ہو گئی تھیں۔ ممتا شرما نامی ایک خاتون نے C بلاک ہی میں انھیں اپنا ایک مکان کرائے پر دے دیا تھا جس میں وہ اس وقت تک رہتی رہیں جب تک کہ انھوں نے اپنا بوطیق بند نہیں کر دیا۔

بچی کی وجہ سے ہی انھوں نے اپنا بوطیق وہاں سے ہٹا کر چوہان بانگر کے قریب بھجن پورا میں منتقل کر لیا تاکہ ان کی دادی اور چچا اس کی دیکھ ریکھ کر سکیں۔ پرمود کہتے ہیں کہ اس کے بعد بھی وہ ان کے گھر آتی جاتی رہیں۔ انھوں نے کئی بار یہ بات کہی تھی کہ بھجن پورہ میں ان کی شاپ نہیں چل رہی ہے۔ اس سوال پر کہ کیا عظمیٰ ڈاکٹر تھیں، پرمود کوئی جواب نہیں دے سکے۔ تاہم انھوں نے یہ ضرور کہا کہ وہ خاصی تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں۔

بوتیک کھولنے کے بعد عظمیٰ دو بار ملیشیا گئی تھیں۔ دوسری بار جب وہ لوٹ کے آئیں تو انھوں نے پاکستانی شہری (طاہر علی) کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ وہ پاکستان جا کر اس سے شادی کر لیں۔ انھوں نے اپنی بیٹی کو اپنی دادی اور چچا کے پاس چھوڑ دیا۔ ان کی دادی بھی اسی درمیان پاکستان اپنے کسی رشتے دار کے یہاں گئی تھیں اور ایک ماہ رہ کر آئی تھیں۔ لیکن پرمود کو اس کا علم نہیں کہ آیا ان کی دادی نے وہاں طاہر علی یا ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی۔

عظمیٰ نے پرمود کے گھر سے ہی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اپنی دادی سے بات کی تھی اور ان لوگوں سے بھی کروائی تھی۔

عظمیٰ کے بوتیک کی جگہ اب وہاں ایک اور بوتیک ٹینو جی فیشن کھل گیا ہے جو ایک سردار جی چلا رہے ہیں۔ جب ہم وہاں گئے تو دوکان بند تھی۔ اس کے ساتھ گلیمر فیشن کی دوکان بھی بند تھی اور دوپہر ہونے کی وجہ سے گلی میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔

اسی محلے کے ایک دوسرے شخص 38 سالہ وید پرکاش نے بتایا کہ بوطیق بہت اچھا چل رہا تھا مگر جانے کیا ہو گیا کہ وہ بند کرکے چلی گئیں۔ انھوں نے عظمیٰ کے اخلاق کی بہت تعریف کی۔ لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ وہ ڈاکٹر بھی ہیں۔ انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ پاکستان میں ہیں۔ وید پرکاش عظمیٰ کے بوتیک کے بعد والی چوتھی دوکان میں مشینری کا کام کرتے ہیں۔

وہیں ایک 20 سالہ نوجوان انکت سے ملاقات ہوئی۔ جو انہیں جانتا ہے لیکن پرمود کے علاوہ کوئی اور ایسا نہیں ملا جس نے عظمیٰ کے پاکستان جانے اور وہاں شادی کرنے کے بارے میں کوئی بات بتائی ہو۔

اطلاعات کے مطابق بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے عظمیٰ کے چچا اور دادی سے رابطہ کیا ہے۔ پرمود کا کہنا ہے کہ سشما نے ان لوگوں کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ نے اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں طاہر علی کے خلاف کیس درج کیا ہے جس پر سماعت چل رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG