رسائی کے لنکس

logo-print

’زن مرید ‘  معاشرے کی روایتی سوچوں میں تبدیلی کا مثبت اشارہ


سیریز کے مرکزی کردار نادیہ خان اور خالد انعم

پاکستانی معاشرہ تبدیل ہورہا ہے۔ لوگوں کی سوچیں بدل رہی ہیں اور نئے خیالات جنم لے رہے ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا توکامی سیڈ اور پہلی خواجہ سرا نیوز اینکر مارویہ ملک سے جڑے مثبت پہلو معاشرے کے سامنے کبھی نہ آتےبلکہ لوگ ایسے موضوعات پر بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے۔ ماضی میں ایسے موضوعات کو ’اچھوت ‘ تصور کیا جاتا تھا۔

ایک اور عام سوچ جو مردوں پر سالہاسال سے ’غالب ‘رہی وہ ہےبیوی کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کو ’زن مریدی‘ خیال کرنا۔شکر ہے کہ نئی نسل کی سوچ اس حوالے سے بھی سست روی کے ساتھ ہی سہی مگر بدل رہی ہے ۔

حنا بیات
حنا بیات

سوچوں کے اس بدلاؤ میں میڈیا نے بہت اہم کردار اداکیا ہے ۔ خبروں ، تبصروں یہاں تک کہ اب ڈراموں میں بھی ایسے موضوعات کو اجاگر کیا جانے لگا ہے ۔ اس کی تازہ مثال ’ ہم‘ ٹی وی سے نشر ہونے والا نیا ڈرامہ’زن مرید‘ ہےجو عام گھروں میں خواتین کے ساتھ روا رکھنے جانے والے روایتی رویے،گھریلو تشدد اور حال ہی میں منظور کئے جانے والے ’بل برائے حقوق نسواں‘ کے منفی اور مثبت زاویوں کا احاطہ کرتا نظر آتاہے۔

’زن مرید‘ کی مصنفہ ناول اور ڈرامہ نگار آمنہ مفتی ہیں جبکہ ہدایات احمد کامران نے دی ہیں۔

’ہم ‘ ٹی وی کے ایک عہدیدار صغیر منہاس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 30 قسطوں پر مشتمل اس ڈرامے کی کہانی دو مرکزی کرداروں تبسم اور سجاد کے گرد گھومتی ہے ۔

تبسم نوکری پیشہ خاتون توہے ہی۔ ساتھ ساتھ اپنے دونوں بچوں ، شوہر سجاد اور ساس کا بھی ہر طرح سے خیال رکھتی ہے ۔ سجاد گھرکے کاموں میں تبسم کا ہاتھ بٹاتا ہے لیکن معاشرہ اسے ’زن مرید ‘سمجھتا ہے۔

کہانی اس وقت ایک نیا موڑ لیتی ہے جبکہ سجاد معاشرتی دباؤ کا سامنا نہیں کرپاتا اور رویہ تبدیل کرلیتا ہے۔

نادیہ خان
نادیہ خان

مگر تبسم اس کے برعکس کرتی ہے ۔ وہ کسی بھی معاشرتی دباؤ میں نہیں آتی اور اس سے بالاتر ہوکر اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرتی رہتی ہے لیکن نظامِ انصاف اورمعاشرے کے سماجی دباؤ کی وجہ سے وہ جانے کب اپنےہی لوگوں اور رشتوں سے دور ہوجاتی ہے۔

ڈرامے کی کاسٹ میں نادیہ خان‘ حنا بیات ‘ خالد انعم‘ عمیر رانا‘ شاہم ہلالی اور دیگر فنکار شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG