رسائی کے لنکس

logo-print

بدنامِ زمانہ منشیات اسمگلر ایل چاپو پر تمام الزامات ثابت


میکسیکو میں 2016ء میں گرفتاری کے فوراً بعد لی گئی ایل چیپو گوزمین کی تصویر

امریکہ کی ایک عدالت نے بدنامِ زمانہ منشیات اسمگلر ایل چاپو گوزمین کو اس پر عائد تمام الزامات میں قصور وار قرار دے دیا ہے جس کے بعد ملزم کو عمر قید کی سزا ہونے کا امکان ہے۔

ایل چاپو کا تعلق میکسیکو سے ہے جسے میکسیکن حکام نے 2016ء میں گرفتار کرنے کے بعد جنوری 2017ء میں امریکہ کے حوالے کردیاتھا۔

اکسٹھ سالہ ملزم کے خلاف نیویارک کی ایک عدالت میں گزشتہ چھ روز سے مقدمے کی کارروائی جاری تھی جس کے اختتام پر منگل کو جیوری نے اس کے خلاف تمام الزامات ثابت ہونے کا فیصلہ سنایا۔

ملزم پر استغاثہ نے منشیات امریکہ اسمگل کرنے، اسلحے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تنظیم چلانے سمیت 10 الزامات عائد کیے تھے جو تمام کے تمام جیوری نے درست قرار دیے۔

حکام کےمطابق مقدمے کے دوران استغاثہ نے ٹنوں کے حساب سے منشیات امریکہ لانے سے متعلق ملزم کے خلاف بہت زیادہ اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے جب کہ اس کے کئی سابق ساتھیوں نے بھی اس کے خلاف گواہی دی۔

امریکی شہر نیویارک کے علاقے بروکلین کی وفاقی عدالت جہاں گوزمین کے خلاف مقدمے کی کارروائی ہوئی۔
امریکی شہر نیویارک کے علاقے بروکلین کی وفاقی عدالت جہاں گوزمین کے خلاف مقدمے کی کارروائی ہوئی۔

میکسیکو کے ایک انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا ایل چاپو گوزمین بدنامِ زمانہ اسمگلنگ گروپ 'سینالوا کارٹیل' کا سربراہ ہے جس نے امریکہ سمیت دنیا بھر میں منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کمائے۔

جیلوں سے فرار

ملزم کی ایک وجہِ شہرت میکسیکو کی انتہائی سخت سکیورٹی والی جیلوں سے فلمی انداز میں فرار ہونا بھی ہے۔ ملزم 2001ء میں میکسیکو کی ایک جیل سے گندے کپڑوں سے بھری ایک بالٹی میں چھپ کر فرار ہوا تھا۔

اپنی دوبارہ گرفتاری کے بعد 2014ء میں اس کے ساتھیوں نے اسے فرار کرانے کے لیے انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل میں موجود اس کی کھولی تک ایک میل طویل سرنگ کھودی تھی جس میں پٹریاں بچھا کر اس پر موٹر سائیکل کے ذریعے اسے فرار کرایا گیا تھا۔

سرنگ میں پانی، ہوا اور روشنی کا بھی مناسب انتظام کیا گیا تھا جسے دیکھنے کے بعد حکام نے خیال ظاہر کیا تھا کہ اسے کھودنے میں ملزم کے ساتھیوں کو کئی سال لگے ہوں گے۔

گوزمین کی جنوری 2017ء میں امریکی حکام کو حوالگی کے وقت کی تصویر (فائل فوٹو)
گوزمین کی جنوری 2017ء میں امریکی حکام کو حوالگی کے وقت کی تصویر (فائل فوٹو)

ملزم کو میکسیکو کے حکام نے 2016ء میں دوبارہ گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد امریکی حکام نے میکسیکو کی حکومت سے اسے امریکہ کے حوالے کرنے کی درخواست کی تھی۔

نیویارک میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ گوزمین کو امریکہ کے حوالے کیے جانے سے قبل بھی وہ میکسیکو کی جیل سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

افسانوی کردار

ملزم کے خلاف ملتے جلتے الزامات کے تحت امریکی ریاستوں فلوریڈا، ٹیکساس اور بعض دیگر مقامات پر بھی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ لیکن نیویارک کے مقدمے میں الزامات ثابت ہونے کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ یہ مقدمات بند کردیے جائیں گے۔

عدالت نے ملزم کو سزا سنانے کے لیے 25 جون کی تاریخ مقرر کی ہے اور اس پر عائد الزامات کی سنگینی کے پیشِ نظر قوی امکان ہے کہ اسے عمر قید ہوجائے گی۔

گوزمین کی زندگی، منشیات کی اسمگلنگ کے لیے اس کے منفرد اور انوکھے طریقوں اور جیلوں سے اس کے ڈرامائی فرار پر کئی فلمیں اور ڈراما سیریز بھی بن چکی ہیں۔

گوزمین سزا کہاں کاٹے گا؟

ایل چیپو پر الزامات ثابت ہونے کےبعد امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ بدنامِ زمانہ منشیات اسمگلر اپنی عمر قید کی سزا کہاں کاٹے گا۔

ریاست کولوراڈو کی وہ جیل جہاں امکان ہے کہ گوزمین کو رکھا جائے گا۔
ریاست کولوراڈو کی وہ جیل جہاں امکان ہے کہ گوزمین کو رکھا جائے گا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق قوی امکان ہے کہ ملزم کو ریاست کولوراڈو کے شہر فلورینس کے نزدیک واقع وفاقی حکومت کی جیل میں رکھا جائے گا جسے انتہائی سخت سکیورٹی کی وجہ سے 'سپر میکس' بھی کہا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق 1994ء میں بننے والی 'سپر میکس' سخت ترین سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے امریکہ کی سب سے محفوظ جیل تصور کیی جاتی ہے۔ جہاں دہشت گردی کی سنگین وارداتوں میں ملوث کئی مجرم اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG