رسائی کے لنکس

logo-print

دبئی کے حکمران پر سابق اہلیہ کے الزامات درست ہیں: برطانوی عدالت


عدالت نے قرار دیا ہے کہ محمد بن راشد آل مکتوم بیٹیوں کے اغوا اور سابق اہلیہ کو دھمکیاں دینے میں قصوروار قرار پائے ہیں۔ (فائل فوٹو)

برطانیہ کی ایک عدالت نے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم پر اُن کی سابق اہلیہ شہزادی حیا بنت الحسین کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو درست قرار دیا ہے۔

محمد بن راشد آل مکتوم کی سابق اہلیہ حیا 15 اپریل 2019 کو اپنے دو بچوں، 12 سالہ جلیلہ اور آٹھ سالہ زید کے ہمراہ متحدہ عرب امارات سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچ گئی تھیں۔

حیا نے لندن ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اُن کے سابق شوہر محمد بن راشد آل مکتوم نے اپنی دو صاحب زادیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور اُنہیں بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ اس لیے ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حیا بنت الحسین کے اپنے برطانوی محافظ کے ساتھ مبینہ طور پر تعلقات تھے اور اُنہیں خدشہ تھا کہ کہیں اُنہیں دبئی میں قتل نہ کرا دیا جائے۔

برطانیہ کی فیملی کورٹ کے جج اینڈریو میک فارلین نے لگ بھگ نو ماہ تک 45 سالہ حیا بنت الحسین کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شیخ محمد بن راشد نے حیا کے خلاف دھمکیوں پر مبنی ایک مہم چلائی جس سے ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہو گئے تھے۔

اس سے قبل حیا کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ محمد بن راشد کی پہلی بیوی سے دو بیٹیاں ہیں جن کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ حیا بنت الحسین کے بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ حیا بنت الحسین اُردن کے سابق بادشاہ حسین کی صاحب زادی ہیں اور 2004 میں اُن کی شادی محمد بن راشد سے ہوئی تھی۔

اُردن کے بادشاہ کی بیسویں برسی کے موقع پر محمد بن راشد نے حیا کو طلاق دے دی تھی۔

عدالتی فیصلہ شیخ محمد بن راشد کے کسی مجرمانہ جرم کی عکاسی نہیں کرتا۔ البتہ اس فیصلے سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ (فائل فوٹو)
عدالتی فیصلہ شیخ محمد بن راشد کے کسی مجرمانہ جرم کی عکاسی نہیں کرتا۔ البتہ اس فیصلے سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ (فائل فوٹو)

جمعرات کو برطانوی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ حیا کے بیٹیوں کو اغوا کرانے کے دعوے کو قبول کرتے ہیں۔ حیا بنت الحسین کا دعویٰ تھا کہ محمد بن راشد نے لندن کے وسطی علاقے سے سال 2000 میں اپنی صاحب زادی شمسہ کو اغوا کرانے کا انتظام کیا تھا جو دبئی سے فرار ہو کر وہاں پہنچی تھیں۔

فیملی کورٹ کے جج نے مزید کہا کہ یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ 2018 میں فرار ہونی والی شمسہ کی چھوٹی بہن لطیفہ کو 2018 میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے سمندری حدود سے تحویل میں لیا تھا جسے واپس دبئی لانے کے لیے محمد بن راشد نے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔

یاد رہے کہ لطیفہ نے 2018 میں دبئی سے فرار ہونے کی دوسری مرتبہ کوشش کی تھی جس میں اُنہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جج میک فارلین نے کہا کہ دونوں لڑکیاں متحدہ عرب امارات میں ہی موجود ہیں جہاں وہ اپنی آزادی سے محروم رکھی گئی ہیں۔

میک فارلین نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حیا نے حقائق پر مبنی جو الزامات لگائے تھے، وہ اسے ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

جمعرات کو عدالتی فیصلہ عام ہونے کے بعد اماراتی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ صرف ایک فریق کی کہانی بیان کر رہا ہے۔

بذریعہ وکیل جاری ہونے والے ایک بیان میں محمد بن راشد نے کہا کہ بطور ایک مملکت کی نمائندہ شخصیت، وہ عدالت کے فیکٹ فائنڈنگ طریقۂ کار کا حصہ نہیں بن سکتے۔ 'فیکٹ فائنڈنگ' کا جو نتیجہ نکالا گیا وہ صرف ایک فریق کا بیان ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو عام کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے سے ان کے بچوں کا تحفظ نہیں ہوا ہے۔ یہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہے اور اس سے ان کے خاندان کے دوسرے بچے بھی متاثر ہوں گے۔

فیصلے کے کیا اثرات ہوں گے؟

ستر سالہ شیخ محمد بن راشد آل مکتوم متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیرِ اعظم ہیں اور وہ برطانیہ میں زیرِ سماعت مقدمے میں پیش نہیں ہوئے تھے۔

انہوں نے اپنے وکلا کو بھی پابند کیا تھا کہ وہ کسی بھی دعوے کو چیلنج نہ کریں۔

عدالتی فیصلہ شیخ محمد بن راشد کے کسی مجرمانہ جرم کی عکاسی نہیں کرتا۔ البتہ اس فیصلے سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

محمد بن راشد کو بین الاقوامی سطح پر دبئی کے انقلابی رہنما کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک ریب سے جب پوچھا گیا کہ کیا عدالتی فیصلہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر اثر انداز ہو گا؟ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے معاملے کو بغور دیکھ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG