رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا


سخت گیر ایرانی مظاہرین نے اپنے ہاتھوں پر لکھا ہے: ’’ہم ایف اے ٹی ایف کو نہیں مانتے‘‘۔ (فائل فوٹو)

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایران کو بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت ایران منی لانڈرنگ میں ملوث رہی ہے اور ایران انسداد دہشت گردی کے بین الاقوامی معیار اختیار کرنے اور ان پر عمل درآمد میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔

اس اقدام سے پہلے پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے سہ روزہ اجلاس کے دوران ایران کو تنبیہ کی گئی تھا کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے سے متعلق ضابطے بنائے، لاگو کرے اور حاصل کردہ پیش رفت بیان کرے۔

ایف اے ٹی ایف نے کہا ہے کہ عام حالات میں کوشش یہ ہونی چاہیے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی نشاندہی اور ہدایات کے بغیر ہی، آزادانہ طور پر دہشت گردی سے سختی سے نمٹنے کے اقدامات کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق، بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کے بعد اب ایران کے ساتھ لین دین کسی طور پر جائز نہیں ہو گا، جب کہ نگرانی کے سخت نظام کے نتیجے میں صورت حال میں بہتری کا امکان مشکل تر ہو جائے گا۔

بلیک لسٹ کا مطلب یہ ہو گا کہ ایران میں کام کرنے والے اداروں کے مالی معاملات کو بیرونی جانچ پڑتال کے نظام سے گزارا جائے گا، جب کہ وہ چند بینک اور کاروباری ادارے جو اب تک ایران میں کام کر رہے ہیں، ان پر دباؤ میں اضافہ ہو گا۔

ایران کی معیشت پر پہلے ہی سخت ترین پابندیاں عائد ہیں۔ ایسے میں جب نیوکلیئر معاملات، میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں ایران کی سرگرمیوں پر نگرانی کا عمل جاری ہے، ایران سخت دباؤ کا شکار ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایران سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا خواہاں ہے تو اس کے لیے لازم ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف کے قواعد کی پابندی کرے۔ اس بات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ 2018ء میں ایران اور بین الاقوامی طاقتوں کے مابین ہونے والے جوہری معاہدے سے امریکہ نے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر دوبارہ سخت تعزیرات عائد کر دیں تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG