رسائی کے لنکس

logo-print

ڈچ ا فواج کی افغانستان سے واپسی شروع


ہالینڈ کے تقریباً سولہ سو فوجی افغانستان میں چار سال مکمل کرنے کے بعد اپنے ملک واپس جا رہے ہیں۔افغانستان میں جنگ کے نویں سال میں ڈچ افواج کی واپسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جنگ کی چار سالہ تعیناتی کے دوران ان کے چوبیس فوجی ہلاک ہو ئے۔

ہالینڈ کے تقریباً سولہ سو فوجی افغانستان میں چار سال مکمل کرنے کے بعد اپنے ملک واپس جا رہے ہیں۔افغانستان میں جنگ کے نویں سال میں ڈچ افواج کی واپسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جنگ کی چار سالہ تعیناتی کے دوران ان کے چوبیس فوجی ہلاک ہو ئے۔

ہالینڈ کے فوجیوں کی جگہ امریکہ، آسٹریلیا، سلوواکیا اور سنگاپور کے فوجی دستے لیں گے۔ نیٹو کے ترجمان بریگیڈئر جنرل جوزف بلاٹز نے کہا ہے کہ ڈچ دستوں کے واپس جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں اتحادی افواج کمزور پڑ جائیں گی۔

گذشتہ ماہ جولائی کے مہینے کے دوران امریکی اور نیٹو افواج کو افغان جنگ میں بہت زیادہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اتوار کو بھی افغان صوبے قندھار کے جنوب میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم دھماکے میں چھ بس مسافر ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس کے علاوہ نیٹو کا کہنا ہے کہ جنوبی افغانستان میں ان کا ایک فوجی طالبان کے حملے میں ہلاک ہو ا ہے۔

طالبان اتحادی افواج کے خلاف حملوں میں اکثرسڑکوں کے کنارے پربم نصب کرتے ہیں مگر ان دھماکوں میں بیشتر اوقات عام شہری ہلاک ہوتے ہیں ۔

امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈروں نے متنبہ کیا ہے کہ افغانستان کے جنوب کو طالبان سے پاک کرنے کے لئے جاری آپریشن کے نتیجے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔

افغانستان میں فوج کی تعیناتی کی مدت کو بڑھانے کے معاملے پرسیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس سال کے اوائل میں ہالینڈ کی اشتراکی حکومت گر گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG