رسائی کے لنکس

logo-print

خواتین قوت سماعت کی حفاظت کے لیے مچھلی کھائیں: تحقیق


محققین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم ازکم دوبار مچھلی کھانا اس دائمی مرض کی روک تھام یا اس میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے قوت سماعت کی حفاظت کے لیے ایک آسان نسخہ تجویز کیا ہے کہ خواتین کو بڑھاپے میں قوت سماعت کے نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مچھلی کھانی چاہیے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم ازکم دوبار مچھلی کھانا اس دائمی مرض کی روک تھام یا اس میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔

'ہارورڈ میڈیکل اسکول' سے منسلک محققین کے مطابق انھوں نے ایک ایسا مضبوط کنکشن دریافت کیا ہے جس سے مچھلی اور اس کے تیل میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈ کھانے اور قوت سماعت کو نقصان پہنچنے کے امکان میں کمی کے درمیان تعلق ظاہر ہوا ہے۔

تحقیق کی مصنف ڈاکٹر شیرون کرہین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سماعت کی کمی کو اکثر بڑھتی عمر کا ایک ناگزیر نتیجہ سمجھا جاتا ہے لیکن قوت سماعت کا نقصان بہت عام ہے اوراکثر یہ معذوری دائمی مرض کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

محققین نے تجربے میں 65 برس کی خواتین کو شامل کیا جن کی 1991ء سے 2009ء تک ماہرین نے نگرانی کی۔ اس دوران 11,000 خواتین سماعت کے کسی نہ کسی مسئلے سے دوچار ہوئیں۔

ہفتے میں دو یا زائد بار مچھلی کا استعمال کرنے والی خواتین میں سماعت کے نقصا ن کا خطرہ 20 فی صد کم رہا بہ نسبت ایسی خواتین کے جو کبھی ہفتوں، مہینوں یا پھر برسوں میں مچھلی کا استعمال کرتی تھیں۔

'امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن' میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قوت سماعت کے نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی مچھلی کھانا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹرکرہین کے بقول، "مچھلی سماعت کی صحت کے لیے کیوں فائدہ مند ہے اورسماعت پر کیسے براہ راست اثرانداز ہوتی ہے؟ اس قدرتی طریقہ کار کے بارے میں ہم لاعلم ہیں۔"

لیکن انھوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق کان کے اندر خون کے بہاؤ سے ہوجسے توانائی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اورمچھلی اور اس کے تیل میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ خون کے بہاؤ میں مددگار ہوتا ہے۔

ڈاکٹر کرہین کے مطابق یہ مطالعہ خواتین کی صحت کے لیے خوراک میں مچھلی کے فوائد کی ایک تازہ ترین مثال ہے۔

اس سے قبل کئی تحقیقات میں ظاہر ہوا ہے کہ مچھلی میں موجود حیوانی پروٹین اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کے استعمال سے دل کے امراض اور الزائمر کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے اسی طرح حاملہ ماؤں کو ضروری غذائی اجزا فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن مچھلیوں میں مرکری کی بلند سطح ظاہر ہوئی ہے ان کا استعمال کم کرنا چاہیے۔ اسی طرح سورڈ فش، ٹونا فش اور باسا مچھلی زیادہ کھانے سے جسم میں زہریلے کیمیکلز جمع ہو سکتے ہیں جن سے انسان کے دل، دماغ اور مدافعتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تاہم محققین کے بقول معقول مقدار میں مچھلی کھانے سے صحت کے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG