رسائی کے لنکس

logo-print

لائبیریا میں ایبولا سے متاثرہ 17 سالہ نوجوان انتقال کر گیا


حکام نے عوام پر زور دیا کہ وہ افراتفری کا شکار نہ ہوں اور نو مئی کو عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ملک کو ایبولا سے پاک قرار دیے جانے کے بعد یہ واحد مریض سامنے آیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے لائبیریا کو مہلک ایبولا وائرس سے پاک قرار دیے جانے کے سات ہفتوں بعد ایک 17 سالہ نوجوان اس وائرس میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار گیا ہے۔

حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ نوجوان کس طرح اس وائرس کا شکار ہوا۔

نائب وزیر صحت ٹولبرٹ نیئنسوا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس نوجوان کا انتقال 24 جون کو ہوا اور اگلے ہی روز تمام حفاظتی تدابیر کے تحت اس کی تدفین کر دی گئی۔

"ہماری ٹیم اس علاقے میں صورتحال کی تحقیق کرنے کے لیے گئی تھی۔ ہماری نگران ٹیم بہت ہی اچھے سے کام کر رہی ہے۔ انھوں نے اس نوجوان کی لاش کو گھر سے اٹھایا اور اس کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا یہ ایبولا سے متاثر ہوا تھا۔"

نیئنسوا لائبیریا میں ایبولا سے متعلق کوششوں کے سربراہ بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ لڑکے کو یہ بیماری کیسے لگی لیکن اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

انھوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ افراتفری کا شکار نہ ہوں اور نو مئی کو عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ملک کو ایبولا سے پاک قرار دیے جانے کے بعد یہ واحد مریض سامنے آیا ہے۔

لیکن اس وائرس سے بدترین حد تک متاثر ہونے والے ملک کے عوام شدید بے چینی کا شکار ہیں اور ان کے لیے حکام کی تسلی کچھ خاص کارگر ثابت نہیں ہو رہی۔

متاثرہ علاقے کے ایک رہائشی گباٹیم سکسس نے کہا کہ اس وائرس سے ہونے والی ہزاروں ہلاکتیں اب بھی انھیں خوفزدہ کرتی ہیں۔

دسمبر 2013ء میں پھوٹنے والے وائرس سے 11 ہزار 100 افراد ہلاک ہوئے جن میں سب سے زیادہ متاثر لائبیریا، گنی اور سیرالیون کے ممالک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG