رسائی کے لنکس

یورپ میں ’اِی کولی‘ پھیلنے کا ماخذ مقامی طور پر اگائی جانے والی پھلی


یورپ میں ’اِی کولی‘ پھیلنے کا ماخذ مقامی طور پر اگائی جانے والی پھلی

لوئر سیکسونی کے زراعت کے وزیر گِرت لِنڈرمین نے اتوار کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ٹیسٹ کے حتمی نتائج پیر تک دستیاب ہوجائیں گے

جرمنی میں عہدےداروں نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اِی کولی کی خطرناک بیکٹریا کے پھوٹ پڑنے سے جرمنی اور سویڈن میں 22افراد ہلاک ہو گئےہیں، جس کا ماخذ مقامی طور پر اگائی جانے والی پھلیاں بتایا جاتا ہے۔

لوئر سیکسونی کے زراعت کے وزیر گِرت لِنڈرمین نے اتوار کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ٹیسٹ کے حتمی نتائج پیر تک دستیاب ہوجائیں گے۔

اُنھوں نےشمال جرمنی کے لوگوں سے درخواست کی ہےکہ وہ فوری طور پر پھلیوں کا استعمال ترک کردیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اولزین علاقے کی ایک کمپنی کو بند کردیا گیا ہے جس کے لیے سمجھا جارہا ہے کہ امکانی طور پر بیکٹریا وہاں سے پھیلا ہے۔

اِس سے قبل اتوار کو صحت سے متعلقہ حکام نے جرمنی میں تین مزید افراد کےفوت ہوجانے کی خبر دی، جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد بڑھ کر 22ہوگئی ہے۔ ایک خاتون کے علاوہ جس کا جرمنی سے واپسی پر سویڈن میں انتقال ہو گیا تھا، تمام ہلاکتیں جرمنی کی سرحدوں کے اندر واقع ہوئی ہیں۔

شعبہ صحت سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ بیمار ہونے والے تقریباً 2000افراد میں سے زیادہ تر لوگ جرمنی ہی میں ہیں۔ دیگر دس یورپی ممالک اور امریکہ نے بیکٹریا سے متاثر ہونے والے 90افراد کے بارے میں بتایا ہے جن میں سے تقریباً تمام کے تمام حال ہی میں شمالی جرمنی سے لوٹے ہیں۔


ای کولی کے جراثیم سے متاثر ہونے کی علامات میں پیٹ میں مروڑ، اسہال، بخاراور الٹیاں شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG