رسائی کے لنکس

logo-print

گیمبیا: افریقی تنظیم کا جمیع کو اقتدار حوالے کرنے کا الٹی میٹم


تنظیم کے سربراہ، مرسیل الین ڈی سوزا نے کہا کہ ’’اگر وہ دوپہر تک گیمبیا چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے، تو ہم فوجی مداخلت پر مجبور ہوں گے‘‘

مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی تنظیم (اِکوواس) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گیمبیا کے سربراہ، یحیٰ جمیع، جنھیں گذشتہ ماہ انتخابات میں شکست ہوچکی ہے، جمعے کی دوپہر تک اقتدار حوالے کرکے ملک چھوڑ کر جا سکتے ہیں، بصورت ِ دیگر، اُنھیں فوجی اقدام کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تنظیم کے سربراہ، مرسیل الین ڈی سوزا نے کہا ہے کہ ’’ہم نےمزید کارروائی روک کر اُنھیں اَلٹی میٹم دے دیا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’اگر وہ دوپہر تک گیمبیا چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے، تو ہم فوجی مداخلت پر مجبور ہوں گے‘‘۔

ڈی سوزا نے کہا کہ سینیگال اور چار دیگر ملکوں نے 7000 فوجیں روانہ کردی ہیں، جو ایک روز قبل گیمبیا میں داخل ہوچکی ہیں۔

ڈی سوزا کے مطابق، گِنی کے صدر، اَلفا کونڈے جمعے کی صبح گیمبیا کے دارالحکومت، بِنجول میں حتمی مذاکرات کی قیادت کریں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےگیمبیا کے نئے صدر کے طور پر آدما بارو کو تسلیم کر لیا ہے، جب کہ ایک طویل مدت سے اقتدار میں رہنے والے، جمیع اختیارات حوالے کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

بارو نے جمعرات کے روز ہمسایہ ملک، سینیگال میں واقع گیمبیا کے سفارت خانے میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے؛ جب کہ اُنھیں گیمبیا کے دارالحکومت میں باضابطہ عہدہ سنبھالنا تھا۔
سینیگال کی فوج کے ترجمان نے مغربی خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ مغربی افریقہ کی فوجیں جمعرات کے دِن گیمبیا کی سرحد کے اندر داخل ہوچکی ہیں، تاکہ امن بحال رکھا جاسکے اور ’’ضروری‘‘ فوجی وسائل دستیاب رہیں۔

نائجیریا کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ نائجیریا کی افواج بھی تعینات کی گئی ہیں تاکہ ’’گیمبیا کے عوام کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے اور خطے میں امن اور سلامتی قائم رکھی جائے‘‘۔ تشدد کی کسی کارروائی کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔

ادھر، امریکی محکمہٴ خارجہ کے ترجمان، جان کِربی نے کہا ہے کہ امریکہ مغربی افریقہ کی فوج کی حمایت کرتا ہے، ’’چونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اِس کا مقصد یہ ہے کہ حالات کو کشیدہ ہونے سے روکا جاسکے اور استحکام یقینی بنایا جائے؛ اور، گیمبیا کے عوام کی خواہشات کا احترام ممکن ہو سکے‘‘۔

کِربی نے کہا کہ امریکہ اپنی فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

نیو یارک میں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر سینیگال کی ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں جمیع کی جانب سے بارو کو اقتدار پُرامن اور باضابطہ طور پر منتقل نہ کرنے کی ’’ممکنہ شدید ترین الفاظ میں‘‘ مذمت کی ہے۔

XS
SM
MD
LG